غزہ میں اسلحہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے کنٹرول میں ہونا چاہیے:امن کونسل

حماس کی جانب سے حکومت تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تشکیل کردہ ’امن کونسل ‘ نے کہا ہے کہ غزہ کے انتظام کے لیے تشکیل دی گئی فلسطینی کمیٹی کو ہی غزہ میں اسلحہ پر بھی نگرانی کرنی چاہیے، یہ مطالبہ حماس کی جانب سے اپنی حکومت تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

کونسل نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ اصول یہ ہے کہ ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک اسلحہ ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام اسلحہ کو "غزہ کےلیے قائم کردہ قومی انتظامی کمیٹی " کے کنٹرول میں یکجا کیا جائے جسے اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ’العربیہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حماس غزہ میں آئندہ انتظامات کا حصہ نہیں ہوگی اور اسلحہ کسی ایک فلسطینی فریق کے پاس جمع رہے گا۔ انہوں نے ثالثوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کی انتظامِی کمیٹی کو لانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

حماس کے سرکاری میڈیا آفس نے اعلان کیا کہ حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ اور قائم مقام سرکاری فالو اپ کے سربراہ محمد عبد الخالق الفرا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم غزہ کی پٹی میں حکومتی نظام کو نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے حوالے کرنے کے انتظامی اور قانونی انتظامات کی تکمیل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان انتظامات کو فلسطینی دھڑوں اور قوتوں، قبائل کی اعلیٰ کمیٹی اور سول سوسائٹی کے اداروں کے نمائندوں کے سامنے اقوام متحدہ کے ایک مبصر نمائندے کی موجودگی میں پیش کیا گیا تھا۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حکومتی کام کے نظام میں باقی رہنے والے ملازمین صرف تکنیکی اور پیشہ ورانہ سطح کے ہیں اور وہ خدمات کی فراہمی جاری رکھنے اور انتظامی یا تکنیکی خلا کو روکنے کے لیے اپنا کام قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان طے پانے والے روڈ میپ کے اصول کے مطابق جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی ذریعے نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کو بتایا کہ حماس کی بہ ظاہر حکومت کا استعفیٰ جس کے تمام ارکان اب بھی اپنے عہدوں پر موجود ہیں صرف ایک بے معنی گمراہ کن عمل ہے۔ حماس کو ڈر ہے کہ اسے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا مرتکب سمجھا سمجھا جائے گا۔ اس لیے وہ تاخیر کر رہی ہے اور گمراہ کرنے کا سہارا لے رہی ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ "وللا" نے بھی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ استعفے کا قدم ظاہری طور پر علامتی ہے اور اس کا مقصد امریکہ اور امن کونسل کو تبدیلی دکھانا ہے۔ جبکہ حماس کو اپنا اسلحہ حوالے کرنا چاہیے تھا اور اقتدار سونپ کر ٹیکنوکریٹ حکومت کو غزہ کی تعمیر نو کو آگے بڑھانے کی اجازت دینی چاہیے تھی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ یہ حماس کی طرف سے ایک فراڈ ہے۔ ان کے پاس اسلحہ ترک کرنے، ہتھیار حوالے کرنے یا کسی بھی قسم کی سرنگوں کو تباہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں