فلسطینی صدر کا 28 نومبر کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان

سال 2006 کے بعد فلسطینی اراضی میں یہ اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو ایک صدارتی فرمان جاری کیا جس میں رواں سال 28 نومبر بروز ہفتہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا تعین کیا گیا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں آخری پارلیمانی انتخابات 2006 میں ہوئے تھے، جن میں حماس تنظیم نے فتح موومنٹ پر برتری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد دونوں تنظیموں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ صدارتی فرمان میں "بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے فلسطینی عوام کو فلسطینی قانون ساز کونسل کے ارکان کے انتخاب کے لیے آزادانہ اور براہ راست پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت" دی گئی ہے۔ انتخابات کا انعقاد ان اصلاحات کا حصہ ہے جن کا مطالبہ عالمی برادری کرتی رہی ہے۔

گذشتہ ماہ جون میں 90 سالہ عباس نے ایک قانون جاری کیا جس کے ذریعے انہوں نے سابقہ عام انتخابات کے قانون میں ترمیم کی۔ اس نئی ترمیم میں کا فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے جائزہ لیا، جس کے مطابق قانون ساز کونسل کے اراکین کی تعداد 200 کرنے، انتخاب لڑنے کی عمر کم کر کے 23 سال کرنے، خواتین کی نمائندگی کا تناسب بڑھانے اور ایک انتخابی فہرست کے لیے کم از کم 20 امیدواروں کی حد مقرر کرنے کا ذکر ہے۔ ترمیم میں اس بات کی بھی پابندی عائد کی گئی ہے کہ ہر امیدوار فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو "فلسطینی عوام کا واحد اور جائز نمائندہ" تسلیم کرے اور اس کے سیاسی و قومی پروگرام اور بین الاقوامی قانونی فیصلوں کا پابند ہو۔

حماس تنظیم نے انتخابات کے حوالے سے عباس کے فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ یہ "فلسطینی سیاسی نظام سے متعلق ہر معاملے میں اتھارٹی کی جانب سے اپنائے جانے والی انفرادیت اور تسلط کی منطق کا تسلسل ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلے صرف اتھارٹی پر قابض قیادت کے مطابق اقدامات کو ڈھالنے کی کوشش ہیں اور یہ اس مسخ شدہ اور بگڑی ہوئی حقیقت کے تسلسل کی بنیاد رکھتے ہیں جس میں سیاسی نظام جی رہا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" نے ذکر کیا کہ ترمیم شدہ قانون کے مطابق آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ عباس نے 15 جنوری 2021 کو اسی سال مئی اور جولائی میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد ازاں 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی بیت المقدس میں انتخابات کے انعقاد کی ضمانتیں نہ ہونے کے باعث ان انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ اپریل میں فلسطینیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں میونسپل کونسلوں کے سربراہان کے انتخاب کے لیے اپنے ووٹ ڈالے، جو اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلا انتخابی عمل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں