امریکی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنڈسی گراہم نے کہا ہے کہ شامی صدراحمد الشرع نے شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو'' بڑا دھچکا '' پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران کے اثرات میں کمی شامی عوام کے لیے ایک اہم کامیابی ہے اور احمد الشرع کو موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ ایک متحد اور مستحکم شامی ریاست قائم کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کر سکیں۔
گراہم نے مزید وضاحت کی کہ وہ ترکیہ میں منعقدہ نیٹوسربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی دو اہم ملاقاتوں کے بارے میں بریفنگ دینا چاہتے تھے۔
پہلی ملاقات یوکرینی صدروولودیمیر زیلینسکی کے ساتھ تھی، جس میں امریکی سینیٹ کے متعدد ارکان بھی شریک تھے، جبکہ دوسری ملاقات شامی صدر احمد الشرع کے ساتھ ہوئی۔
پوٹن پر دباؤ
یوکرین جنگ کے حوالے سے سینیٹرلنڈسی گراہم نےکہا کہ کیف نے میدانِ جنگ میں تمام توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے۔
ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ روسی صدرولادیمیر پوٹن پر جنگ کے خاتمے کے لیے'' انتہائی زیادہ دباؤ'' ڈالا جائے۔
گراہم نے مزید کہا کہ انہوں نے سینیٹرریچرڈ بلومن تھال کےساتھ مل کر جو پابندیوں کا بل پیش کیا ہے، وہ نہایت مناسب وقت پر سامنے آیا ہے۔
ان کے بقول یہ بل امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ان اہم ممالک پر کسٹم ڈیوٹیاں عائد کریں جو روسی تیل اور قدرتی گیس کم قیمت پر خریدتے ہیں، تاکہ ماسکو کو مالی وسائل سے محروم کیا جا سکے۔
گراہم نے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ امریکی صدر نے یوکرین کوپیٹریاٹ نظام کے لیے انٹرسیپٹر میزائل مقامی طور پر تیار کرنے کا لائسنس دینے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ''بڑی پیش رفت ''قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بالآخر مذاکرات کے ذریعے ختم ہوگی اور تمام فریقوں کے مفاد میں ہے کہ جلد از جلد مذاکرات کی میز تک پہنچا جائے۔
متحد شام کی تعمیر
شام کے معاملے پر سینیٹرلنڈسی گراہم نے کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں یہ ہے کہ شامی صدراحمد الشرع کے ساتھ تعاون کیا جائے اور انہیں یہ موقع دیا جائے کہ وہ ایک مستحکم اور دیرپا حکومت قائم کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کر سکیں۔
انہوں نے زور دیا کہ شام کی مسلسل تقسیم امریکا کے مخالفین کے مفاد میں ہے۔گراہم نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک احمد الشرع ایک متحد شام کی تعمیر اور ملک کو بتدریج استحکام کی طرف لے جانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے تحفظات کو سمجھتے ہیں، تاہم ان کے بقول الشرع ''ایران کے پہلو میں ایک حقیقی کانٹا '' ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے شام میں ایرانی اثر و رسوخ کو نمایاں حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے انہوں نے شامی عوام کے لیے فائدہ اور تہران کے لیے دھچکا قرار دیا۔
گراہم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شام میں ایرانی اثرات کے مقابلے میں احمد الشرع کی کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے اور انہیں وہ وسائل فراہم کیے جائیں جو شامی عوام کی زندگی بہتر بنانے میں مدد دے سکیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا اب قابل قبول نہیں رہا۔
امریکی سینیٹر نے اپنے بیان کے اختتام پر ترکی میںڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقاتوں کو'' غیر معمولی ''قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور شام کے معاملات میں ان کی ذاتی شمولیت عالمی استحکام کے لیے اہم فوائد کا باعث بنے گی۔