آیت اللہ خامنہ ای کو ان کی جنم بھومی مشہد میں سپرد خاک کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آیت اللہ علی خامنہ ای کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کو ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا کے روضے تک لایا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور دعائیں کی جا رہی تھیں۔ انہیں روضے کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔

ان کی تدفین ایک ہفتے تک جاری رہنے والی نماز جنازہ، جلوسوں اور تعزیتی تقریبات کے بعد عمل میں آئی۔ تقریب کے دوران ان کے صاحبزادے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای منظر عام پر نہیں آئے۔

علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔

اس دوران ایران نے کہا کہ اس کی مسلح افواج نے جمعرات کو خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر تازہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

ان حملوں سے تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی مزید کمزور ہو گئی ہے۔ تاہم ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے ساتھ تنازع کے سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔

رواں ہفتے قطر اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد جنگ بندی کو شدید دھچکا پہنچا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی، جن میں بوشہر، جہاں ایران کا ایک جوہری بجلی گھر واقع ہے، کونارک، چغادک اور بندر عباس شامل ہیں۔

تاہم ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکہ نے ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز ایجنسی نے بتایا کہ امریکہ کے تازہ حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

بوشہر کے نائب گورنر احسان جہانیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جوہری بجلی گھر کے اطراف کا علاقہ، چغادک کا فوجی اڈہ اور جنوبی حصے میں واقع ماہی گیروں کی ایک بندرگاہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ بوشہر کے جوہری پلانٹ کے قریب حملے جوہری تحفظ کے لیے حقیقی خطرہ ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں کویت، بحرین اور قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں جمعرات کو تہران نے کویت، اردن اور عراق میں مزید مقامات پر حملے کیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جوابی کارروائی میں اردن کے شہر ازرق میں واقع موافق السلتی ایئر بیس پر 10 بیلسٹک میزائل داغے۔ یہ اڈہ خطے میں امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حملے سے قبل اردن میں فضائی حملے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور مختلف محاذوں پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں خلیجی خطے میں امریکہ کی تازہ کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں