آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خطرات بدستور سنگین تر ہیں:برطانوی میری ٹائم اتھارٹی
برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی کو درپیش خطرات کی سطح بدستور سنگین درجے پر ہے ۔اتھارٹی نے جہازوں کو عبور کرتے وقت احتیاط برتنے اور منظور شدہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
برٹش میری ٹایم اتھارٹی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ ایران کی جانب سے 12 جولائی کو آبنائے بند کرنے کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کے گذرنے کے لیے جنوبی راستہ بدستور دستیاب ہے۔ اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ دونوں اطراف میں ٹریفک کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے راستے کو وسیع کر دیا گیا ہے۔
میری ٹائم اتھارٹی نے کہا کہ جہازوں کو بحری افواج کی جانب سے وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز کے ذریعے کالز موصول ہو سکتی ہیں ۔ اس نے ملاحوں پر زور دیا کہ وہ روایتی ٹریفک علیحدگی کے نظام کے اندر واقع مائنز کے خطرے والے علاقے پر توجہ دیں۔
برطانوی اتھارٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی بحری فوج کی سینٹرل کمانڈ کے میری ٹائم گائیڈنس اینڈ کوآرڈینیشن گروپ کے ساتھ رابطہ کاری کی سختی سے سفارش کی جاتی ہے لیکن یہ لازمی نہیں ہے۔ اتھارٹی نے وضاحت کی کہ جہاز پہلے سے رابطہ کاری کی ضرورت کے بغیر جنوبی راستے کا استعمال کر سکتے ہیں۔
اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی فریق فیس وصول کرنے یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی گزرگاہ سے گزرنے کو کنٹرول کرنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کا مالک نہیں ہے۔
JMIC Advisory Note: 014-26
— UKMTO Operations Centre (@UK_MTO) July 12, 2026
Click here to view the full advisory note⤵️ https://t.co/8GmvndmpTA#MaritimeSecurity #MarSec pic.twitter.com/TXe0hiIKun
اتھارٹی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور یہ کسی بھی ایک ملک کے جبر یا کنٹرول کے تابع نہیں ہے۔ ایران کے آبنائے کو بند کرنے کے دعووں کے باوجود امریکی افواج بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے اور جائز تجارت کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔ آبنائے کا جنوبی راستہ بدستور کھلا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اس نے ہمسایہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ایرانی ساحلی علاقوں پر حملوں کے نئے دور کے اگلے دن سامنے آیا ہے جسے امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا جواب قرار دیا ہے۔
یہ نئی کشیدگی جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والیمفاہمت کی یادداشت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے جس کا مقصد اس جنگ کو ختم کرنا تھا جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں شروع ہوئی تھی۔