ایران نے آبنائے ہرمز میں وسطی راہداری کھولنے سے متعلق ایکسیوس رپورٹ کی تردید کردی
رپورٹ میں جہازوں کے لیے ہرمز میں وسطی راہداری کھولنے کے لیے ایرانی عمانی بات چیت کا بتایا گیا
ایک سرکاری ایرانی ذریعے نے تسنیم نیوز ایجنسی کو سنیچر کے روز امریکی نیوز ویب سائٹ "ایکسیوس" کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں ایران اور سلطنت عمان کے درمیان ہرمز کی وسطی راہداری میں بحری جہاز رانی کی مکمل اور آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دینے کا اعلان کرنے کے لیے بات چیت کا ذکر کیا گیا تھا۔ ایکسیوس نے کہا کہ ایران اور عمان جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز میں وسطی راہداری کھولنے کے حوالے سے ایک ممکنہ مشترکہ بیان پر بحث کر رہے ہیں ۔ رپورٹ میں مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں قطری مذاکرات کاروں کی شرکت کا بھی کہا گیا۔
ہفتے کے روز ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنیم" نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سلطنت عمان پہنچے ہیں۔ سلطنت عمان اس جنگ کے خاتمے کے لیے ثابت قدمی سے ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس جنگ نے خلیجی خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کیا۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔
عباس عراقچی نے عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی تاکہ آبنائے ہرمز کے معاملے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ آبنائے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلاف کے نمایاں ترین نکات میں سے ایک ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ عراقچی آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے سے متعلق انتظامات پر بات چیت کریں گے۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن جہاز رانی کی آزادی اور اس حیاتیاتی آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرنے کا عوامی عہد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز اور اس کی شراکت دار برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے اطلاع دی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی جانب سے عراقچی کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے کی توقع ہے۔ خبر رساں ادارے "رائٹرز" کے لیے ابھی تک آزادانہ طور پر ان رپورٹوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ مذاکرات سلطنت عمان میں ہوں گے یا انٹرنیٹ کے ذریعے دور بیٹھ کر کیے جائیں گے۔
بعد میں ہفتے کے روز ہی ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" نے ایک ایرانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جب تک امریکہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتا، تب تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایران آبنائے میں جہاز رانی کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ جنگ کے دوران اسے بند کرنے کے بعد اب اپنے ساحلوں کے ساتھ ایک ہی بحری گزرگاہ کے ذریعے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے کو عملی طور پر بند رکھا جس کے نتیجے میں دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوت کے ساتھ ٹکراؤ شدت اختیار کر گیا۔
امریکی حکام نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ امریکہ ایران سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ عوامی طور پر اعلان کرے کہ وہ آبنائے میں جہازوں پر حملے بند کر دے گا اور اس بات کی ضمانت دے کہ تمام بحری گزرگاہیں بغیر کسی ٹرانزٹ فیس کے کھلی رہیں گی۔ اس آبی گزرگاہ سے جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔
واضح رہے اگرچہ اقوام متحدہ کا قانون برائے سمندر کا معاہدہ بین الاقوامی آبنائے بشمول آبنائے ہرمز میں "ٹرانزٹ پیسیج" کے حق کی ضمانت دیتا ہے لیکن تہران جنگ شروع ہونے سے پہلے قائم جہاز رانی کے نظام پر واپس جانے سے انکار کر رہا ہے۔