فرانس میں گرمی کی نئی لہر، جنگلوں میں آگ پھیلنے کے ساتھ انتباہات جاری

آئیفل ٹاور اور دیگر سیاحتی مقامات جلد بند کرنے کا فیصلہ، کچھ علاقوں میں درجہ حرارست 40 ڈگری تک جانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

فرانس نے اپنے تقریباً ایک تہائی علاقے میں گرمی کی لہر کی وجہ سے ہائی الرٹ کا اعلان کیا ہے جو آگ کو بھی بھڑکا رہی ہے۔ آئیفل ٹاور جیسے متعدد سیاحتی مقامات نے جلد بند ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیرس کا علاقہ اور ملک کا ایک بڑا مغربی حصہ محکمہ موسمیات کی طرف سے اعلان کردہ انتہائی الرٹ کے تحت آرہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس صورت حال میں مکمل طور پر ہوشیار رہنے اور احتیاط برتنے کی سفارش کی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹیٹسٹکس اینڈ اکنامک سٹڈیز کے سالانہ ڈیٹا کی بنیاد پر فرانس پریس ایجنسی کے حساب کتاب کے مطابق انتہائی الرٹ یا ریڈ الرٹ والے علاقوں میں 2 کروڑ 60 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ جنوبی فرانس میں صرف چند ہی اضلاع ایسے بچے ہیں جو گرمی کی اس تیسری لہر سے متاثر نہیں ہوئے جو ملک دو ماہ کے دوران دیکھ رہا ہے۔

محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 39 یا 40 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے ۔ شدید گرمی کی یہ لہر اگلے ہفتے کے وسط تک جاری رہے گی۔ اس ہفتے کے آخر میں، جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے سفر کی لہر کا عروج ہے، تیز رفتار ٹرین کی خدمات قومی دن کی طویل چھٹی کے ساتھ معمول کے مطابق چلیں گی لیکن دن کے شدید ترین گرم وقت کے دوران ہر تین میں سے ایک علاقائی ٹرین کا سفر منسوخ کر دیا جائے گا اور متبادل بسیں فراہم کی جائیں گی۔ حکام نے گرمی اور ٹریفک کے رش کی وجہ سے کار ڈرائیوروں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید احتیاط برتیں۔

آگ اور اموات

ان حالات میں آگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگل کی 10 میں سے 9 آگ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے لگتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غفلت کا ایک سیکنڈ خاندانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، ان لوگوں کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے جو ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہمارے قدرتی مناظر کو تباہ کر سکتا ہے۔ موسم گرما کے آغاز سے اب تک پولیس نے آگ لگانے میں ملوث ہونے کے شبہ میں 32 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

فرانسیسی سول ڈیفنس کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک 25 ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبہ جل چکا ہے جو 2025 کے انہیں دنوں تک ریکارڈ کیے گئے رقبے سے تقریباً دوگنا ہے۔ اگرچہ انسانی جانوں کا نقصان کسی بھی طرح جنوبی سپین میں ریکارڈ کیے گئے نقصان کے برابر نہیں ہے جہاں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے لیکن جنوب کے کئی علاقوں اور موسم گرما کی آگ کے کم عادی علاقوں میں خاص طور پر مغربی فرانس میں متفرق آگ کی اطلاعات ملی ہیں۔

سووائے کے علاقے میں دو دیہات الگ تھلگ ہو گئے۔ اگرچہ جنگل کی آگ جس نے 60 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اب "مستحکم" ہو گئی ہے لیکن آمدورفت کے راستے کو محفوظ بنانے کے لیے کئی دنوں کے کام کی ضرورت ہوگی۔ موسمیاتی سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ بار بار آنے والی گرمی کی لہریں موسمیاتی تبدیلی کا ایک حتمی اشارہ ہیں جو بنیادی طور پر کوئلہ، تیل اور گیس جلانے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ توقع ہے کہ ان لہروں کی تعدد میں اضافہ ہوگا۔ یہ گرمی انسانی اور اقتصادی سطحوں پر سنگین اثرات کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ ان نئے حالات سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو ڈھالنے کی بھی ضرورت ہے۔ فرانسیسی حکومت کو شدید گرمی کی لہروں کے لیے تیار نہ ہونے کے وسیع الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ فرانس میں معمول کی شرح سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ خاص طور پر 75 سال سے زیادہ عمر کے رہائشیوں میں اموات زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔

سیاحتی مقامات کو جلد بند کرنا

شدید گرمی کا ایک اور نتیجہ پچھلے سال کے مقابلے میں ڈوبنے کے واقعات کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہے کیونکہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 19 جون سے اب تک 131 افراد ڈوب چکے ہیں۔ خاص طور پر نابالغوں اور 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں ڈوبنے کے واقعات زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ خوشی کی تقریبات اور سیاحتی مقامات بھی گرمی کی لہر سے متاثر ہو رہے ہیں۔

پیرس میں آئیفل ٹاور، لوور میوزیم (جس کے کچھ ہالز میں ایئر کنڈیشننگ کی کمی ہے) اور اورسے میوزیم سمیت اہم سیاحتی مقامات نے اپنے دروازے بند کرنے کا وقت جلد کرتے ہوئے شام چار بجے تک کر دیا۔ پولیس کمانڈ نے فائر فائٹرز کی پارٹیوں کو بھی منسوخ کر دیا جو بہت مقبول ہیں اور 13 اور 14 جولائی کو شیڈول تھیں۔ اس کے علاوہ بیرونی کھیلوں کی سرگرمیوں اور غیر ایئر کنڈیشنڈ جگہوں پر شیڈول دیگر تقریبات کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ فرانس بھر کے شہروں نے قومی دن کی تقریبات کے آتش بازی کے شوز بھی منسوخ کر دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں