چائے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے گرم مشروبات میں سے ایک ہے اور لاکھوں افراد کے روزمرہ معمول کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔
چائے کو ہاضمہ بہتر بنانے، توجہ بڑھانے اور اعصاب کو سکون پہنچانے سمیت کئی طبی فوائد کی وجہ سے سراہا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مشروب بعض ایسے پوشیدہ صحتی خطرات بھی رکھتا ہے جن سے اکثر لوگ لاعلم ہیں۔
محققین کے مطابق یہ خطرات جسم میں سوزش اور ہارمونز کے عدم توازن کا سبب بن سکتے ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم کی ایک نئی تحقیق جو Science of the Total Environment جریدے میں شائع ہوئی، میں 150 اقسام کے گرم اور ٹھنڈے مشروبات کا جائزہ لیا گیا تاکہ ان میں موجود مائیکرو پلاسٹک (انتہائی باریک پلاسٹک ذرات) کی مقدار معلوم کی جا سکے۔
ایکسپریس اخبار کی رپورٹ جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے نقل کیا، کے مطابق تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ گرم چائے میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار سب سے زیادہ پائی گئی۔
تحقیق کے مطابق ایک لیٹر چائے میں 60 تک مائیکرو پلاسٹک ذرات موجود ہو سکتے ہیں، یعنی ایک عام کپ میں تقریباً 12 سے 15 ذرات۔ اس کے مقابلے میں سافٹ ڈرنکس میں 17 ذرات فی لیٹر جبکہ انرجی ڈرنکس میں اوسطاً 25 ذرات فی لیٹر پائے گئے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ درجہ حرارت پلاسٹک کے ذرات کے اخراج میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کیفے سے باہر لے جانے والے مشروبات کے وہ کپ، جن کے اندر پلاسٹک کی تہہ لگی ہوتی ہے، مائیکرو پلاسٹک کی مقدار مزید بڑھا سکتے ہیں۔ شیشے کے کپ میں اوسطاً 14 ذرات پائے گئے، جبکہ ٹیک اوے کپ میں یہ تعداد بڑھ کر 22 ذرات تک پہنچ گئی۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر محمد عبداللہ نے بتایا کہ مائیکرو پلاسٹک انتہائی باریک پلاسٹک ذرات ہوتے ہیں، جو یا تو بڑے پلاسٹک کے ٹکڑوں کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں یا مخصوص مصنوعات میں استعمال کے لیے جان بوجھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ ذرات اب پانی، خوراک، ہوا اور یہاں تک کہ انسانی جسم کے مختلف بافتوں میں بھی موجود ہیں۔اگرچہ اب تک انسانی صحت پر ان ذرات کے درست اثرات پوری طرح ثابت نہیں ہو سکے، تاہم لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں انہیں آنتوں کے مفید بیکٹیریا (گٹ مائیکرو بایوم) میں خرابی، جسم میں سوزش اور ہارمونز کے عدم توازن سے جوڑا گیا ہے۔
تحقیق میں ایک اور تشویش ناک پہلو بھی سامنے آیا کہ چائے کے ٹی بیگز خود بھی مائیکرو پلاسٹک کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتے ہیں۔
1908 میں متعارف ہونے والے ٹی بیگز وقت کے ساتھ ریشم سے کاغذ، نائلون اور بائیو پلاسٹک سے تیار کیے جانے لگے، مگر گرم پانی میں یہ مواد مائیکرو پلاسٹک کے ذرات خارج کر سکتے ہیں۔
ماہرین نے ان خطرات کو کم کرنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ کھلی پتی والی چائے یا ایسے کاغذی ٹی بیگز استعمال کیے جائیں جن میں پلاسٹک شامل نہ ہو۔ اسی طرح اگر چائے باہر سے خریدی جائے تو پلاسٹک کی تہہ والے ٹیک اوے کپ سے گریز کرنا بہتر ہے تاکہ صحت اور ماحول دونوں پر منفی اثرات کم کیے جا سکیں۔
ماہرین نے چائے پینے والوں کو ایک اور بات کا بھی خیال رکھنے کا مشورہ دیا ہے، وہ ہے ٹینن (Tannin) نامی مرکب، جو چائے کو اس کا مخصوص قدرے کڑوا ذائقہ دیتا ہے۔
یہ مرکب خاص طور پر حاملہ خواتین اور سبزی خور افراد کے لیے اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹینن پودوں سے حاصل ہونے والے نان ہیم آئرن کے ساتھ جڑ کر جسم میں اس کے جذب کو کم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آئرن کی کمی اور بعض اوقات ہاضمے کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
-
آسٹریلیا میں نوجوان اور کم عمر لڑکے آن لائن جنسی بلیک میلنگ کے بڑھتے خطرے کی زد میں
آسٹریلیا کی سائبر سیفٹی ریگولیٹری اتھارٹی نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ نوجوان اور ...
بين الاقوامى -
ویڈیو گیمز یادداشت بہتر بناتی ہیں: 20 سال تک جاری رہنے والی تحقیق کا نتیجہ
غیر کھلاڑیوں سے موازنہ میں کھلاڑیوں نے مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول ...
ایڈیٹر کی پسند -
سادہ عادات جو آپ کے دماغ کو خوشی کی طرف دوبارہ متوجہ کر سکتی ہیں
موڈ بہتر بنانے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کا راستہ شاید اتنا پیچیدہ نہیں جتنا اکثر لوگ ...
ایڈیٹر کی پسند