روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو نے امن معاہدے کی صورت میں کیف کے اتحادیوں کی جانب سے یوکرین میں کثیر قومی فوج تعینات کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس ایسی کسی بھی فوج کو براہ راست خطرہ اور اپنے لیے ایک جائز فوجی ہدف سمجھے گا۔ ماریا زاخارووا کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب یوکرین کے حامی "اتحاد برائے رضامندی" کے رکن مغربی ممالک نے رواں ہفتے جنگ بندی کے بعد ایسی فورس تعینات کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
جرمنی نے بدھ کے روز نام نہاد اتحاد برائے رضامندی کی پہلی فوجی مشق میں حصہ لینے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ جرمن حکومتی ذرائع نے گزشتہ منگل کو بتایا تھا کہ جرمنی ان مشقوں میں حصہ نہیں لے گا۔ یوکرین کے تقریباً 35 اتحادی ممالک پر مشتمل اس اتحاد نے فرانس کی تجویز پر پیر کے روز پیرس میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران اچانک یوکرین کے لیے خصوصی کثیر قومی فورس کی پہلی مشقیں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ فورس روس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین کی مدد کے لیے تشکیل دی جا رہی ہے۔ پہلی مشقیں پولینڈ میں ہونا طے ہیں جو یوکرین کے پڑوسی ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ ایک محدود دائرے کی مشق ہوگی جس کے دوران ابتدائی طور پر کمانڈ سٹرکچرز اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کا تجربہ کیا جائے گا۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے گزشتہ منگل کو بتایا تھا کہ پولینڈ، فرانس اور برطانیہ ان مشقوں میں حصہ لیں گے۔
یاد رہے کسی بھی ممکنہ جنگ بندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے یورپی قیادت میں کثیر قومی فوج کی تشکیل کا فیصلہ گزشتہ دسمبر میں جرمن دارالحکومت برلن میں یوکرین کے حوالے سے منعقد سربراہی اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ یہ فورس اب تعیناتی کے لیے بالکل تیار ہے۔