امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ''فاکس بزنس ''کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کا خواہاں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی تصفیے تک پہنچنے کی شدید خواہش رکھتا ہے، تاہم یہ فیصلہ واشنگٹن کرے گا کہ آیا وہ ایسی پیش رفت پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔ٹرمپ نے ایران کی شہری بنیادی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا آئندہ چند راتوں کے دوران ایران پر ''انتہائی سخت'' حملے کرے گا۔ ان کے بقول اگلا ہفتہ ایران کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔ ہم ان کے تمام بجلی گھر تباہ کر دیں گے اور ان کے تمام پل بھی تباہ کر دیں گے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے۔
مزید برآں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پر حملے جاری رہیں گے، تو انہوں نے جواب دیا: یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے، جب تک میں نہ کہوں کہ بس، اب کافی ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی اپریل میں اسی نوعیت کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جب انہوں نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولے تو چند گھنٹوں میں اس کے پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اگر کارروائیاں اسی وقت روک دی جائیں تو ان صلاحیتوں کی بحالی میں تقریباً 20 سال لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے اہداف میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنا اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا شامل ہے۔ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔