امریکہ اور ایران کے درمیان باہمی حملوں کے جاری رہنے کے باوجود دونوں جانب کے حکام نے سفارتی راستے پر واپس آنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس دوران خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے پیر کے روز العربیہ اور الحدث چینلوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو 10 دن سے 14 دن تک کھولنے سے متعلق ایک تجویز پر بات چیت کے بارے میں بتایا ہے۔
اسی تناظر میں خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ ثالثوں نے مفاہمت کی یاد داشت کو بحال کرنے کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔
اسی سلسلے میں پاکستان کی وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پیر کے روز اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مومنی پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے متعلق ہے۔
مومنی ماضی میں ثالثی مذاکرات میں حصہ لے چکے ہیں اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر چکے ہیں جنہوں نے ایک سے زائد بار تہران کا دورہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ تہران کو ایسے ثالثوں سے تجاویز موصول ہوئی ہیں جو مزید کشیدگی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ اور سفارت کاری کے دونوں راستوں کو جاری رکھے گا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا میں جنگ یا سفارت کاری کی ثنویت کو مسترد کرتا ہوں، سفارت کاری ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے قومی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، بالکل اسی طرح جیسے جنگ ہے۔
ترجمان نے تہران میں ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ہمیں ثالثوں کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے اور ہمیں گذشتہ دنوں کے دوران پیغامات موصول ہوئے ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ سفارتی مشینری حالیہ دنوں میں فعال رہی ہے اور کچھ ثالثوں کے ذریعے ہم تک خیالات پہنچائے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اب بھی سفارتی حل کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ ایران نے براہ راست یا ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجے ہیں جن میں مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ بارہا کوشش کی ہے اور کوشش جاری رکھے گا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مذاکرات کا دروازہ کھلا تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کا رویہ تبدیل ہونے کے لیے ایران کا رویہ بدلنا ضروری ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ان بیانات کے باوجود، فوجی حملوں کے ایک ہفتے بعد جنھوں نے گذشتہ ماہ اعلان کردہ جنگ بندی کو ختم کر دیا تھا، جلد مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے کوئی اشارے نہیں ہیں۔
جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے دستخط کی گئی مفاہمت کی یاد داشت میں امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی اٹھانے کے بدلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
تہران نے عہد کیا تھا کہ جنگ کے بعد آبنائے کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی اور اس نے اسے عبور کرنے کے لیے سروس فیس عائد کرنے کی بات کی تھی، جسے واشنگٹن مسترد کرتا ہے۔
حال ہی میں دونوں فریقوں کے درمیان جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے ساتھ، ایران نے دوبارہ ان جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جو عمانی ساحل کے ساتھ راستے کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ جہازوں کو صرف اسی راستے سے گزرنے کی اجازت دے گا جو اس نے اپنے ساحلوں کے ساتھ طے کیا ہے۔
-
ایرانی صدر: ملک امریکہ کے ساتھ ’مکمل جنگ‘ کی حالت میں ہے
ایران امریکہ کے ساتھ ایک "مکمل جنگ" لڑ رہا ہے، صدر مسعد پیزشکیان نے پیر کو کہا ...
مشرق وسطی -
بحرین: ایران نے فضائی نیویگیشن سسٹم کو نشانہ بنایا لیکن ٹریفک متأثر نہیں ہوئی
بحرین کی سول ایوی ایشن باڈی نے کہا ہے کہ ایران نے پیر کے روز اس کے فضائی نیوی گیشن ...
مشرق وسطی -
امریکہ اور ایران وسیع تر جنگ سے بچنے کے لیے فیصلہ کن لمحہ میں پہنچ چکے ہیں:رپورٹ
خطے کو کنٹرول سے باہر ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے سفارتی راستہ اپنانے پر زور
بين الاقوامى