مڈٹرم الیکشن سے قبل ڈیموکریٹس کی پسپائی اور ریپبلکنز نے فرق کم کر دیا: سروے

ڈیموکریٹس 2018 کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے حاصل کی گئی برتری کی سطح سے بہت دور ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک نئے رائے عامہ کے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ریپبلکن پارٹی نے کانگریس کے مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ فرق کو کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو ان توقعات کے برعکس ہے جن میں مہینوں سے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ اور ایپسوس کے تعاون سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ایوانِ نمائندگان پر کس پارٹی کا کنٹرول ہونا چاہیے اس حوالے سے ڈیموکریٹس کو رجسٹرڈ ووٹرز کی 48 فیصد حمایت حاصل ہے اور ریپبلکنز کو 45 فیصد حمایت حاصل ہے۔

یہ گزشتہ مئی کے سروے کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کو ظاہر کر رہا ہے جس میں اے بی سی نیوز، واشنگٹن پوسٹ اور ایپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹس کو 49 فیصد اور ریپبلکنز کو 44 فیصد حمایت حاصل تھی۔

سروے واضح کر رہا ہے کہ ڈیموکریٹس 2018 کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے حاصل کی گئی برتری کی سطح کے قریب بھی نہیں ہیں۔ اس وقت انہوں نے اس سال ریپبلکنز پر تقریباً 10 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی جس سال کو ’’ بلیو ویو ‘‘ کے نام سے جانا گیا تھا۔

امریکن پروگریس سینٹر کی صدر اور ڈائریکٹر نیرا ٹنڈن نے ڈیموکریٹس کی یکطرفہ بھاری جیت کی حد سے زیادہ توقعات رکھنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ایکس پر کہا ہے کہ ہر وہ شخص جو نومبر میں کلین سویپ کا فرض کر رہا ہے، اسے اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ تاریخی طور پر یہ معمول رہا ہے کہ مڈٹرم انتخابات کے دوران وائٹ ہاؤس پر کنٹرول رکھنے والی پارٹی ایوانِ نمائندگان میں نشستیں ہارتی ہے اور 1938 کے بعد سے صرف دو کے علاوہ تقریباً تمام انتخابی دوروں میں ایسا ہی ہوا ہے۔

لیکن اس بار ڈیموکریٹس کو روایتی دھڑے اور زیادہ سخت گیر بائیں بازو کے ونگ کے درمیان اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی 2024 کے صدارتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں شکست کے بعد ڈیموکریٹس کو سیاسی شناخت کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ دوسری طرف مبصرین کے مطابق ریپبلکنز اپنی انتخابی مہمات کے لیے زیادہ مالی وسائل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اس نے ان کے نقصانات کو کم کرنے اور شاید مساوات کو الٹنے کی امیدوں کو تقویت دی ہے۔ تاہم اب بھی بڑے پیمانے پر یہ مانا جا رہا ہے کہ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کے پاس بہترین مواقع ہیں۔ سروے کا ماننا ہے کہ سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ ماضی میں متوقع بڑی جیت کے بجائے ڈیموکریٹس کی ایک محدود فتح ہو سکتا ہے۔

ریئل کلیئر پولیٹکس کے سروے اوسط کے مطابق ڈیموکریٹس کانگریس کے انتخابات کے لیے عام ووٹنگ میں 4.7 فیصد پوائنٹس کے فرق سے آگے ہیں۔ سروے نے یہ بھی دکھایا کہ رجسٹرڈ ووٹرز کا خیال ہے کہ ریپبلکنز اہم مسائل پر ان کی بہتر نمائندگی کرتے ہیں جس کی شرح ڈیموکریٹس کے 40 فیصد کے مقابلے میں 41 فیصد ہے۔ اسی طرح 39 فیصد کا ماننا ہے کہ ریپبلکنز معیشت کو چلانے میں بہتر ہوں گے۔ ڈیموکریٹس کے لیے یہ شرح 35 فیصد ہے۔

اس کے برعکس یہ سروے ڈیموکریٹس کے لیے ایک مثبت خبر بھی لایا ہے کیونکہ اس نے نومبر کے انتخابات میں یقینی طور پر حصہ لینے والے ووٹرز کے درمیان ان کی 10 فیصد پوائنٹس کی برتری دکھائی۔ تقریباً اسی جوش و خروش کی سطح ہے جو پارٹی کو 2018 کے انتخابات سے پہلے حاصل تھا۔ ریپبلکنز اب بھی انتخابات میں ٹرن آؤٹ کے بارے میں فکر مند ہیں۔ خاص طور پر بیلٹ پیپر پر صدر ٹرمپ کی عدم موجودگی اور اہم مسائل بشمول ایران کے ساتھ جنگ پر پارٹی کے اندرونی اختلافات کے تسلسل کے سائے میں ریپبلکنز کی فکر بڑھ رہی ہے۔ سروے نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ انتخابات سے قبل ووٹرز کو پریشان کرنے والے اہم ترین مسائل جن میں معیشت، ایران کے ساتھ اور امیگریشن پر منفی منظوری کی شرح ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں