گزشتہ ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کے لیے امریکی فنڈنگ روکنے کی ایک تجویز پر ہونے والی شدید بحث نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو نمایاں کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ترقی پسند (پروگریسو) دھڑے کا اثر و رسوخ بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جو اسرائیلی حکومت کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ''ایکسیوس'' کی رپورٹ کے مطابق 103 ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے وزارتِ خارجہ کے بجٹ سے متعلق بل میں ایک ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس قانون کے تحت مختص کوئی بھی رقم اسرائیل کے لیے استعمال نہ کی جائے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سیاسی رجحانات میں تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔اگرچہ بعض ڈیموکریٹک ارکان نے اس ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ اس میں فوجی امداد کے علاوہ سفارتی معاونت کے پروگراموں کو بھی مستثنیٰ نہیں رکھا گیا تھا۔
تاہم انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی غزہ اور لبنان سے متعلق پالیسیوں کے خلاف سیاسی پیغام دینے کے لیے اس کی حمایت کی۔
ایک ایسے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس، جو ایک اہم انتخابی حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل کے بارے میں ووٹرز کی رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور ان کی ذمہ داری اپنے حلقے کے عوام کے مؤقف کی نمائندگی کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے امریکی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی تقریباً 85 فیصد رہائشی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
ادھر تنظیم جسٹس ڈیموکریٹس (Justice Democrats) کے ترجمان اسامہ اندرابی نے کہا کہ ان کی حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی اور اسرائیل نواز لابی اے آئی پیک (AIPAC) کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شکست نے ڈیموکریٹک پارٹی کو اپنے ووٹرز کے مطالبات پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
دوسری جانب پارٹی کے اندر اسرائیل کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ یہ ووٹنگ پالیسی میں اختلاف کے بجائے زیادہ تر سیاسی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس جوش گوٹہائمر نے کہا کہ معاملہ اب پالیسی کے بنیادی اصولوں کا نہیں رہا بلکہ شدید بائیں بازو کے دھڑے کو ناراض کرنے کے خوف کا بن چکا ہے۔
ڈیموکریٹک رکن اسٹیو کوہن نے بھی تسلیم کیا کہ سیاسی دباؤ نے ووٹنگ میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیامین نیتن یاہو اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو کانگریس کے اندر اسرائیل کی مالی معاونت یا حمایت کے خلاف آوازیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ووٹنگ نے پارٹی قیادت کے اندر اختلافات کو بھی ظاہر کیا۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز ان 98 ڈیموکریٹک ارکان میں شامل تھے ،جنہوں نے اس ترمیم کی مخالفت کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ان کے ترمیم کے خلاف مؤقف نے تقریباً 30 سے 40 ارکان کو اس کے خلاف ووٹ دینے پر آمادہ کیا، جبکہ اندازہ ہے کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو حمایت کرنے والے ارکان کی تعداد تقریباً 150 تک پہنچ سکتی تھی۔
مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر بیس میں غزہ جنگ کے حوالے سے رائے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جس کے باعث آئندہ انتخابات کے قریب پارٹی قیادت پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔