یونیسکو کی مغربی کنارے کے تاریخی مقام کی نامزدگی اسرائیلی دباؤ روک دے گی:فلسطینیوں کو امید

اسرائیل نے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سبسطیہ کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اسرائیل کو قدیم گاؤں پر اپنا کنٹرول بڑھانے سے روکے گا جبکہ اسرائیل نے اسے سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ثقافتی تنظیم یونیسکو کے مطابق شمالی مغربی کنارے میں سبسطیہ میں کم از کم نویں صدی قبل مسیح میں اسرائیلی سلطنت کے دارالحکومت سے لے کر رومن، بازنطینی، اسلامی ادوار، صلیبی اور عثمانی سلطنت کے متواتر ادوار کے آثارِ قدیمہ کی باقیات ہیں۔

زیتون کے درخت اس جگہ کو گھیرے ہوئے ہیں جو رومن ستونوں، قدیم دیواروں اور سنگی سیڑھیوں اور ایک امیفی تھیٹر کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اسے روایتی طور پر جان بپٹسٹ کی تدفین کی جگہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن ملحقہ گاؤں کے فلسطینی باشندے جن میں سے اکثر زندگی گذارنے کے لیے سیاحت پر انحصار کرتے ہیں، کو اسرائیل کی جانب سے تقریباً 1,800 دونم (445 ایکڑ) کی اس جگہ پر قبضے کا سامنا ہے۔

جمعہ کو یونیسکو نے سبسطیہ کو اپنی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں اور خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا۔ یہ طریقہ کار درج شدہ مقامات پر پرچم لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جنہیں سنگین خطرات کا سامنا ہے اور ان کی حفاظت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

فلسطینی وزارتِ سیاحت اور وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز امید کا اظہار کیا کہ یونیسکو کی منظوری سے وہاں پر اسرائیلی اقدامات کے خلاف بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ یونیسکو کا فیصلہ زمین سے یہودیوں کے روابط کا نشان مٹانے کی فلسطینی مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا، "بین الاقوامی تنظیم میں کوئی ووٹ تاریخ کو نہیں بدل سکتا۔"

فلسطینی حکام ایک نئے اسرائیلی بل کے بارے میں بھی فکر مند ہیں جس کا ابھی قانون بننا باقی ہے جس سے مغربی کنارے میں قدیم مقامات پر اسرائیلی شہری کنٹرول میں اضافہ ہو جائے گا۔

نافذ ہو جانے کے بعد یہ مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی سے قدیم مقامات کی نگرانی واپس لے لے گا جو 1990 کے اوسلو امن معاہدے کے تحت مغربی کنارے کے بعض حصوں میں محدود خود مختاری کا استعمال کرتی ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں یہاں قبضہ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں