جمعے کی شام وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک لائقِ توجہ ردِ عمل کا اظہار کیا جب "وال اسٹریٹ جرنل" کے صحافیوں کی ایک ٹیم کو ایک ایسی تحقیقاتی رپورٹ پر اعزاز سے نوازا گیا جس میں متوفی فنانسر جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اس رپورٹ کی بنیاد پر اخبار کے خلاف پہلے ہی مقدمہ دائر کر چکے ہیں۔
تقریب کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت مسکرا رہے تھے اور ہنس رہے تھے جب صحافیوں نے "کیتھرین گراہم ایوارڈ فار کریج اینڈ اکاؤنٹیبلٹی" حاصل کیا۔ یہ انھیں ایک مبارک باد کے کارڈ اور خاکے سے متعلق تحقیقات کے اعتراف میں دیا گیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر تیار کیا تھا۔
اعزاز دیئے جانے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ شوخ انداز میں ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے اپنے ہونٹوں میں "مجھے نہیں معلوم" کہتے ہوئے دکھائی دیے، جس کے بعد انہوں نے اس تحقیقاتی رپورٹ میں شامل تمام صحافیوں سے مصافحہ کیا۔
تقریب کے دوران اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا "ان تمام ایوارڈز کے ساتھ، یہ کوئی آسان شام نہیں تھی"... پھر ہنستے ہوئے مزید کہا "کیا اس پر میری کوئی رائے ہے؟"
وال اسٹریٹ جرنل اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ جو جولائی 2025 میں شائع ہوئی تھی، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین کو ایک خط لکھا تھا جو ان کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر تیار کی گئی ایک کتاب میں شامل کیا گیا تھا اور اسے گسلین میکسویل نے جمع کیا تھا، جنہیں بعد میں جنسی نیٹ ورک کے دھندے سے متعلق الزامات میں سزا سنائی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق خط میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایپسٹین کے درمیان ایک فرضی مکالمہ شامل تھا جو غائب کے صیغے میں لکھا گیا تھا اور اس کے گرد ایک برہنہ خاتون کا خاکہ بنایا گیا تھا، جبکہ اخبار نے اشارہ کیا تھا کہ "ڈونلڈ" کے دستخط اس انداز میں کیے گئے تھے جو خاکے میں شرمگاہ کے بالوں سے مشابہت رکھتے تھے۔
اس رپورٹ نے اس وقت ڈیموکریٹک اور ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے ایپسٹین کیس سے متعلق دستاویزات عام کرنے کے مطالبات کو جنم دیا تھا، جس پر بعد میں امریکی انتظامیہ نے عمل درآمد کرتے ہوئے وہ دستاویزات جاری کر دیں جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف 10 ارب ڈالر کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
اس حوالے سے عدالت کے جج ڈیرن گائلز نے مقدمے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ صدر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اخبار نے رپورٹ شائع کرتے وقت "بد نیتی" کا مظاہرہ کیا تھا، جبکہ ٹرمپ سے منسوب خط کی صداقت یا اصلیت کے بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ جو اس بات پر قائم ہیں کہ یہ خط جعلی ہے، مئی میں ترمیم شدہ دعویٰ دائر کرنے کے بعد اس کیس کی پیروکاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سے متعلق عدالتی کارروائی ابھی جاری ہے۔
-
جنگ کا دائرہ وسیع ہونے لگا، ٹرمپ کا ایران پر حملوں میں شدت لانے پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایران پر مزید وسیع ...
مشرق وسطی -
مذاکرات کریں یا حملے جاری رہیں گے: ٹرمپ کا ایران کو انتباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایران پر مزید وسیع پیمانے ...
مشرق وسطی -
امریکہ اور ایران کے درمیان احتیاط آمیز سکون... اور ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار
امریکی صدر جارحیت کے اختیارات پر غور کر رہے ہیں
بين الاقوامى