.

مشرق وسطیٰ تنازعہ طے کرنے کے لیے نئی راہ نکالی جائے عرب لیگ

اسرائیل،فلسطین براہ راست مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور انھوں نے گذشتہ کاوشوں کو وقت کا ضیاع قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے یہ بات قاہرہ میں یورپی کونسل کے صدر ہرمن وان رومپائے سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو طے کرنے کے لیے ہمیں ایک نیا میکانزم وضع کرنا ہو گا اور نئی حکمت عملی اور طریق کار بروئے کار لانا ہو گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ماضی میں ضائع شدہ برسوں میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے تھا اور محض عارضی سمجھوتوں پر دستخط ہی نہیں کیے جانے چاہئیں تھے جن کے نتیجے میں صرف وقت کا ضیاع ہوا ہے اور اس دوران اسرائیل کو یہودی بستیوں کو توسیع دینے کا موقع مل گیا ہے''۔

اس موقع پر وان رومپائے نے کہا کہ تمام بنیادی فریقوں کی جانب سے اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے کو طے کرنے کے لیے مربوط اور منظم اقدامات کیے جانے چاہئیں۔اب وقت آگیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی جانب دلیرانہ اقدامات کیے جائیں۔

شاہ اردن کا انتباہ

درایں اثناء مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حوالے سے شاہ اردن عبداللہ دوم کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔اس میں انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کی بحالی میں تاخیر سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

عمان میں شاہی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ اردن نے سوموار کو امریکی، اسرائیلی پبلک افئیر کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب بہار کے نتیجے میں رونما ہونے والی علاقائی تبدیلیوں کے پیش نظر اسرائیلی حکومت کو امن کو قبول کر لینا چاہیے۔

انھوں نے اسرائیل نواز گروپ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئَے کہا کہ اسرائیل کو امن کوششوں کی راہ میں حائل ہونے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا اشارہ غرب اردن کے کنارے یہودی آبادکاروں کے لیے فلسطینیوں کی سر زمین پر نئی نئی بستیوں کی تعمیر کی جانب تھا۔

شاہ عبداللہ نے اسرائیل، فلسطین اور امریکا پر زور دیا کہ وہ امن عمل کی بحالی کے لیے کوششیں کریں۔ انھوں نے تنازعے کے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جن کے نتیجے میں ان کے بہ قول فلسطینی ریاست معرض وجود میں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف اس فارمولے کی بنیاد پر ہی پینسٹھ سال پرانے تنازعے کو حل کیا جا سکتا ہے۔