مصر میں یو ٹیوب پر ایک ماہ کی پابندی

عدالتی فیصلے پر حکومت نے کوئی ردعمل نہیں دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے ملک میں یو ٹیوب پر تیس روز تک پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کی وجہ کئی ماہ پہلے اسلام مخالف فلم کی نمائش ہے۔ مصری حکومت نے اس عدالتی فیصلے پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

یو ٹیوب پر نشر کی جانے والی اس ویڈیو کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی تھی اور اسلامی ممالک میں مظاہروں کے دوران تیس لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

مصری عدالت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ یو ٹیوب تک رسائی کو ایک ماہ کے لیے روک دے۔

عدالت نے یہ حکم ایک مصری شہری کی اس درخواست پر دیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس فلم کی نمائش سے ملک میں امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اسلام مخالف فلم کے دکھائے جانے کے بعد پاکستان نے بھی یوٹیوب پر پابندی عائد کی گئی تھی جو ابھی تک قائم ہے۔ یو ٹیوب نے پاکستان کی حکومت کے مطالبے کے باوجود متنازع فلم کو ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

البتہ یوٹیوب نے مختلف اسلامی ممالک میں اسلام مخالف فلم تک رسائی کو محدود کر دیا تھا۔ ان ممالک میں مصر، لیبیا، انڈونیشیا اور سعودی عرب شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ مصر کی ایک عدالت نے اس قبطی عیسائی کو موت کی سزا کا حکم سنایا تھا جس نے اس فلم کو تیار کیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر مصری نژاد امریکی شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں