امیر کویت کی توہین پراپوزیشن لیڈر کو پانچ سال قید کی سزا

مسلم البراک پراکتوبر 2012ء میں شیخ صباح مخالف تقریر کا جرم ثابت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کویت کی ایک عدالت نے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی توہین کے الزام میں اپوزیشن لیڈر اور سابق رکن پارلیمان مسلم البراک کو قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت کے جج وائل العتیقی نے مسلم البراک کے خلاف سوموار کو مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے اور ان کی سزا پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔مدعا علیہ پر 15 اکتوبر 2012ء کو ایک عوامی ریلی سے خطاب کے دوران امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح کے خلاف تندو تیز تقریر کرنے کے جرم میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

انھیں اکتوبر کے آخر میں حراست میں لے لیا گیا تھا مگر چارروز کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ان کے خلاف پارلیمان پر دھاوا بولنے اور احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں الگ سے بھی مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

8 اپریل کومقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے جج نے مسلم البراک کے حق میں گواہوں کے بیانات سننے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ان کے وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا تھا۔اس پر مدعا علیہ نے اپنے نئے وکیل کے تقرر تک مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی لیکن جج نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ وہ سوموار کو اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔

کویتی حزب اختلاف گذشتہ دسمبر میں منتخب شدہ پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔اس کا انتخاب نئے ترمیمی قانون کے تحت عمل میں آیا تھا۔حزب اختلاف کا دعویٰ تھا کہ انتخابی قوانین میں ترمیم غیر قانونی تھی اور یہ اقدام ربراسٹیمپ پارلیمان کو منتخب کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

کویت میں حالیہ مہینوں کے دوران امیر کویت کی توہین کے جرم میں مختلف مقدمات میں متعدد افراد کو قید وجرمانے کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔فروری میں کویتی سپریم کورٹ نے حکومت مخالف ایک کارکن اورینس الرشیدی کو سوشل میڈیا ٹویٹر اور یوٹیوب پر امیر کویت کی توہین کے جرم میں سنائی گئی دس سال قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔واضح رہے کہ کویت کے آئین کے تحت امیر کو ہر قسم کا استثنیٰ حاصل ہے اور ان کی توہین جرم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں