.

اردن: شام میں جہاد پرجانے کے الزام میں تین افراد کو قید کی سزائیں

فوجی عدالت کا ملزموں کو پہلے 5، 5 سال پھر ڈھائی سال جیل کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی ایک فوجی عدالت نے تین افراد کو شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جہاد کے لیے جانے کی کوشش کے الزام میں قصوروار قرار دے کر قید کی سزائیں سنادی ہیں۔

اردن کے ایک عدالتی اہلکار نے بتایا ہے کہ ''عمان کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے آج منگل کو ان تینوں افراد کو شام میں جہاد کے لیے جانے کے الزام میں پہلے پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی لیکن بعد میں قید کی مدت نصف کردی ہے''۔

عدالتی اہلکار کے مطابق ان تینوں افراد نے اس سال جنوری میں اردن سے شام میں دراندازی کی کوشش کی تھی اور وہ وہاں النصرۃ محاذ کے ساتھ مل کر شامی فوج کے خلاف جہاد میں حصہ لینا چاہتے تھے۔

استغاثہ نے ان تینوں افراد پر ایسی کارروائیوں میں حصہ لینے کا الزام عاید کیا تھا جن کی حکومت نے اجازت نہیں دی تھی۔ان کے اس فعل سے اردن کے خلاف جارحیت کا خطرہ ہوسکتا تھا۔اس کے علاوہ ان سے بلالائسنس اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔

اسی سکیورٹی عدالت نے گذشتہ روز دو شہریوں کو پچھلے سال شام میں جہاد کے لیے جانے کے ''جرم'' میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ان دونوں کو گذشتہ سال اگست میں شام سے اردن واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

مئی 2013ء میں فوجی عدالت نے شام جانے کے خواہش مند 9 مسلم انتہا پسندوں کو پانچ، پانچ سال جیل کی سزائیں سنائی تھیں۔واضح رہے کہ اردنی حکام نے خانہ جنگی کا شکار شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے الزام میں بیسیوں افراد کو گرفتار کررکھا ہے اور ان کے خلاف اب فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

اردن کے سلفیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت شام میں پانچ سو سے زیادہ اردنی جہادی جنگ میں شریک ہیں۔بیسیوں اردنی شہری شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہوکر شامی فوج کے خلاف محاذ آراء ہیں۔شامی حکومت اردن پر یہ الزام عاید کرتی چلی آرہی ہے کہ اس نے جہادیوں کی شام میں آمد کے لیے اپنی سرحدیں کھول رکھی ہیں لیکن اردن اس الزام کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔عمان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جہادیوں کی گرفتاری اورانھیں قانون کے کٹہرے میں لانے میں کوئی رو رعایت نہیں برت رہی ہے۔