.

"73ء کی جنگ سے قبل سادات نے اسرائیلی امن پیشکش ٹھکرا دی"

جنگ اکتوبر سے متعلق رپورٹ میں چشم کشا انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے سن 1973ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ سے متعلق ایک چشم کشا دستاویز اتوار کے روز منظر عام پر لائی ہے۔ ستائیس صفحات پر مشتمل اس دستاویز کو اس وقت کی صہیونی وزیر اعظم گولڈا مائر اور سابق جرمن چانسلر ولی برانڈت نے جنگ سے تین ماہ قبل جاری کیا تھا۔

ان دستاویز میں مصری صدر کو امن کی دعوت دی گئی تھی، اس معاملے میں اسرائیل کو امریکا کی آشیر باد بھی حاصل تھی تاہم امریکا خود منظر عام پر نہیں آنا چاہتا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے انور سادات کو 1967ء کی سرحدوں پر عدم واپسی کی شرط پر مصر کو صحرائے سینا کا وسیع علاقہ واپس کرنے کو کہا گیا تاہم مصر نے یہ پیش کش ماننے سے انکار کردیا اور جنگ کی تیاریاں جاری رکھیں۔

عرب اخبار روزنامہ الشرق الاوسط کے مطابق ’’جنگ اکتوبر‘‘ کو لگ بھگ چالیس سال گزر چکے ہیں اور ان دستاویز کے منظر عام پر آنے کے کچھ ماہ بعد لیڈی مائر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے انور سادات کے ساتھ قیام امن کا موقع گنوا دیا جس کی وجہ سے اسرائیل کو جنگ لڑنا پڑی۔

ان دستاویز میں کیے گئے ایک اہم انکشاف کے مطابق 09 جون 1973 کو مغربی القدس کے ایوان وزیر اعظم میں گولڈا مائر اور جرمن چانسلر برانڈت نے ملاقات کی، یہ ملاقات انتہائی خفیہ نوعیت کی تھی۔

دستاویز میں اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ جرمن چانسلر برانڈت سے انور سادات کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں اور یہ کہ اسرائیل کو پورے سینا، اس کے نصف یا اکثریتی علاقے پر تسلط میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ سارا سیناء مصر کو دینے کو تیار ہے تاہم وہ 1967ء کی سرحدوں پر واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مائر نے کہا کہ وہ عرب دنیا میں انور سادات کی مشکلات کو سمجھتی ہیں لہذا اسی لیے ان سے اعلانیہ مذاکرت نہیں کر رہیں اور ابتدائی طور پر خفیہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

ایک اور دستاویز میں بتایا گیا کہ جرمن چانسلر برانڈت ان مذاکرات کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں تھے نہ ہی ان میں مصر کا سفر اختیار کی طاقت تھی لہذا انہوں نے ایک معمولی درجے کے سفارت کار، وزارت خارجہ کے سیکرٹری، لوٹار لان کو مذاکرات میں شرکت کے لیے قاھرہ بھیج دیا۔ جرمن سیکرٹری نے انور سادات کے مشیر سے ملاقات کی درخواست کی تاہم وہاں سے جواب نہ دیا گیا اور مصر کے قونصلر جنرل حافظ اسماعیل نے انہیں شرف ملاقات بخشا، جن کے ساتھ ملاقات میں جرمن سیکرٹری نے بڑے تذبذب کی حالت میں اپنا موقف پیش کیا۔

تاہم جرمنی کے مذاکرات اس کے بعد بھی جاری رہے اور آخر میں حفاظ اسماعیل نے اسرائیلی پیشکش کو بڑی سختی سے رد کردیا اور کہا کہ یہ مذاکرات برائے مذاکرات ہیں، مصر اسرائیل سے اس وقت مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوگا جب تک وہ سن 1967ء کی سرحدوں پر واپسی کی حامی نہیں بھر لیتا۔