.

اسدی فوج کی لبنانی قصبے میں بمباری، نو شامی پناہ گزین جاں بحق

شامی سرحد پر اندھی گولی لگنے سے ترک شہری کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد کی وفادار فضائیہ کے جنگی طیاروں نے لبنان کے سرحدی گاؤں"عرسال" میں پناہ کی تلاش کے لیے سرحد پار جانے والے شامی شہریوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم سے کم نو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی میتیں اور زخمیوں کو لبنان میں "یونیورسل ہسپتال اور بعلبک کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

لبنان سے "العربیہ" کے نامہ نگارکی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق اسد نواز فوج کے لڑاکا طیاروں نے شامی پناہ گزینوں کے ایک قافلے پر اس وقت بمباری کی جب وہ سرحد عبور کرکے لبنانی علاقے عرسال میں "داؤد" کے مقام پر پہنچے تھے۔ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد مارے گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

درایں اثناء ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک" این ٹی وی" نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ شام کی سرحد پرنامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک تُرک شہری مارا گیا۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق رمضان زیبل نامی شخص کو شام کے زیر انتظام علاقے راس العین سے گولیاں ماری گئی تھیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا۔ تاہم حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ گولیاں لگنے کے بعد زخمی ترک شہری کو اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا۔

خیال رہے کہ شامی سرحدی علاقہ راس العین گذشتہ کئی ہفتوں سے بشار الاسد کے مخالف باغیوں اور کرد مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی کا مرکز رہا ہے۔ شامی صدرکے حامی کرد جنگجو اور باغی دونوں راس العین سے ایک دوسرے کی سرحد پار مداخلت کو روکنے کے لیے ایک دوسرے پرحملے کرتے رہے ہیں۔