.

شام میں جاری بحران دہشت گردوں کو نشانہ بنانے سے حل ہوگا: بشارالاسد

سیاسی محاذ پر کوششوں کے ساتھ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ان کے ملک میں جاری بحران دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''دہشت گردی کا کوئی بھی سیاسی حل نہیں تلاش کیا جاسکتا سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی پاگل انسان بھی یہ سوچے گا کہ دہشت گردی سے سیاست کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے''۔

شامی صدر نے کہا کہ ''اگر دہشت گردی سے پیشگی نمٹا جائے تو شاید سیاست کا کوئی کردار ہوسکتا ہے لیکن جونہی دہشت گردی سر ابھارتی ہے تو اس کو نشانہ بنایا جانا چاہیے''۔

بشارالاسد نے اتوار کی رات سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے اس پینتالیس منٹ کی تقریر میں اپنی حکومت کے سیاسی مخالفین کو بھی ناکام قرار دے کر مسترد کردیا اور کہا کہ حزب مخالف ملک میں جاری تنازعے کے حل میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتی ہے۔
ان کے الفاظ میں حزب اختلاف قابل اعتبار نہیں ہے اور اس کا بحران کے حل میں کوئی کردار نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے شامی قومی اتحاد پر ایک سے زیادہ خلیجی ملکوں کا آلہ کار ہونے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ وہ مسلح افراد کو دہشت گردی کا مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے شامی ریاست پر اس کا الزام عاید کررہے ہیں۔

انھوں نے اس امر کی ضرورت پر بھی زوردیا کہ ان کی فوج باغیوں کے خلاف لڑے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ ''میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی جنگ لڑی جارہی ہے لیکن بحران صرف میدان جنگ ہی میں حل ہوگا۔ نیز بحران کے کسی سیاسی حل میں فوجی کارروائی شامل ہونی چاہیے''۔

بشارالاسد نے کہا کہ اگر دہشت گرد ہر کہیں حملے جاری رکھتے ہیں تو کوئی بھی سیاسی کوشش یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوسکتی ہے۔ اس لیے درست سمت میں آگے بڑھنے کے لیے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دو متوازی ٹریک نہیں ہوسکتے۔ اس لیے یہ بات بلا جواز ہے کہ جب ہم سیاسی طور پر کام کررہے ہوں تو دہشت گردوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے مسلح عوامی مزاحمتی تحریک جاری ہے اور وہ اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کررہے ہیں۔ان کی وفادار فوج باغیوں کے ٹھکانوں اور شہری آبادیوں پر وحشیانہ انداز میں گولہ باری اور فضائی حملے کررہی ہے۔ شامی صدر اپنے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے وجود سے ہی انکاری ہیں اور وہ مسلح بغاوت کو مٹھی بھر دہشت گردوں کی کارروائی قرار دیتے ہیں جبکہ وہ باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔