مصر: اخوان المسلمون کے سنیئر رہ نما محمد البلتاجی گرفتار

برطرف صدرمرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں سکیورٹی فورسز نے ملک کی سب سے منظم سیاسی قوت اخوان المسلمون کے اعلیٰ قائدین کی پکڑدھکڑ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور جمعرات کو پولیس نے جماعت کے سنئیر رہ نما محمد البلتاجی کو گرفتار کرلیا ہے۔

محمد البلتاجی اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ انھیں پولیس نے دارالحکومت قاہرہ سے متصل واقع شہر الجیزۃ میں ایک اپارٹمنٹ سے جمعرات کو گرفتار کیا ہے۔ وہ 14 اگست کے بعد سے روپوش تھے۔

ان کے ساتھ برطرف حکومت میں وزیر محنت خالد الازہری اور اخوان کے ایک اور سرکردہ رہ نما جمال العشری کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ محمد البلتاجی نے اسی ہفتے الجزیرہ سے نشر ہونے والے ایک ریکارڈ بیان میں مصریوں پر زور دیا تھا کہ وہ آیندہ جمعہ کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں۔

مصر کے جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی 3 جولائِی کو برطرفی کے بعد سے فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے اخوان المسلمون کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے جس کے دوران اب تک سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اخوان کی قریب قریب تمام اعلیٰ قیادت کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اخوان کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے دو نائبین خیرت الشاطر اور رشاد بایومی کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے لیکن انھوں نے اپنے خلاف ان بھونڈے الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

مصری حکام نے 10 جولائی کو انھی الزامات کے تحت محمد البلتاجی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔ قاہرہ میں 8 جولائی کو علی الصباح برطرف صدر کے حامیوں کے خلاف مصری سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تریپن مظاہرین مارے گئے تھے۔ اس واقعے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

مصر کی فوج کے تحت عبوری حکومت نے اس کے واقعے کے ذمے دار سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے الٹا اخوان کے قائدین کے خلاف مظاہرین کو تشدد کی شہ دینے کے الزام میں مقدمات قائم کردیے ہیں اور اب ان کے خلاف عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کی جارہی ہے۔

محمد البلتاجی قاہرہ میں جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر اسکوائر میں برطرف صدر کے حامیوں کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں تند وتیز تقریریں کرتے رہے تھے لیکن مصری سکیورٹَی فورسز نے 14 اگست کو خونریز کارروائی کے بعد اس احتجاجی دھرنے کو ختم کردیا تھا اورکیمپ کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ اس خونریز کارروائی میں البلتاجی کی بیٹی اسماء سمیت اخوان کے چھے سو سے زیادہ کارکنان جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان مِیں سے زیادہ تر پولیس کی براہ راست فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں