.

امریکی جوڑے پر قطر میں 8 سالہ بیٹی کو عمداً قتل کرنے کا الزام

افریقی ملک گھانا سے متبنیٰ بنائی گئی بچی بھوک سے دم توڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی جوڑے کو اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو بھوک سے مارنے اور انسانی اسمگلنگ کے الزام میں جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کی مطابق امریکی شہری میتھیو اور اس کی اہلیہ گریس ہوانگ اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ 2012ء میں اس چھوٹی خلیجی ریاست میں منتقل ہوئے تھے۔ ملزم میتھیو اسٹینفورڈ کا فارغ التحصیل انجنئیر ہے اور وہ قطر میں 2022ء میں منعقد ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ سے متعلق انفرااسٹرکچر کے ایک بڑے منصوبے پر کام کے لیے آیا تھا۔

بیرون ملک پکڑے جانے والے امریکیوں کی قانونی مددگار ایجنسی ڈیوڈ ہاؤس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میتھیو اور ہوانگس دونوں ہی ایشیائی نژاد ہیں، انھوں نے افریقہ سے تین بچوں کو متبنیٰ بنایا تھا اور امریکی محکمہ خارجہ سے ان کے لیے قانونی طریقے سے ویزا حاصل کیا تھا۔

گلوریا میتھیو اور گریس ہوانگز کی منجھلی بیٹی تھی اور اس کو افریقی ملک گھانا میں ایک یتیم خانے سے 2009ء میں متنبیٰ بنایا تھا۔ گلوریا 15 جنوری 2013ء کو قطری دارالحکومت دوحہ میں واقع ان کے اپارٹمنٹ میں اچانک انتقال کرگئی تھی۔ قطری عدالت میں پیش گئی رپورٹ کے مطابق موت سے قبل گلوریا بیمار نہیں پڑی تھی اور جس کسی نے بھی اس کو موت سے قبل دیکھا تھا، اس کا کہنا تھا کہ وہ آٹھ سال کی صحت مند بچی تھی۔

قطر کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ موت کے سرٹیفکیٹ میں بھوک اور پانی کی کمی کو اس کے انتقال کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران گلوریا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر انیس محمود نے جج کو بتایا کہ ''میں نے اپنی رپورٹ میں لفظ ''بھوک'' استعمال نہیں کیا تھا بلکہ اس کے بجائے بھوک سے کمزوری کا لفظ استعمال کیا تھا''۔

لیکن قطری پراسیکیوٹر نے پولیس کی انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ موت کا سبب زبردستی کی بھوک تھی۔ لاس اینجلس سے گریس کے بھائی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہن اور بہنوئی نے اپنی بیٹی کو بھوک سے نہیں مارا تھا بلکہ سائنس کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے ان پر یہ الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ نے جب دوحہ میں امریکی قونصل جنرل اور واشنگٹن میں قطری سفارت خانے سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ البتہ گریس کے خاندان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اس کیس میں ان کی معاونت کررہے ہیں اور ہر پیشی کے موقع پر کوئی نہ کوئی امریکی اہلکار عدالت میں موجود ہوتا ہے۔