.

سابق مصری صدر حسنی مبارک کی آڈیو ٹیپ منظرعام پر آگئی

میرے خلاف بغاوت کا منصوبہ 2005ء میں امریکا میں بنا:حسنی مبارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری ذرائع ابلاغ میں سابق معزول صدر حسنی مبارک کی ایک صوتی ٹیپ سامنے آئی، جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ سنہ 2005ء امریکا میں تیار ہوا تھا جس کا ڈراپ سین جنوری 2011ء میں عوامی بغاوت کی شکل میں سامنے آیا تھا۔

مصرکے مؤقرعربی اخبار"الیوم السابع" نے حسنی مبارک کی مبینہ آڈیو ٹیپ کے کچھ اقتباسات شائع کیے ہیں۔ تین گھنٹے پر محیط اس ٹیپ ریکارڈنگ میں حسنی مبارک اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کی نقاب کشائی سمیت کئی دیگر اہم انکشافات کرتے ہیں۔

حسنی مبارک نے دعوی کیا کہ "میرے خلاف عوامی بغاوت کی جو تحریک جنوری 2011ء میں شروع ہوئی تھی اس کا آغاز واشنگٹن میں سنہ 2005ء میں ہو چکا تھا۔ سنہ 2010ء میں امریکا نے حسنی مبارک کو ہر قیمت پر اقتدار سے الگ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ حسنی مبارک کو ہٹانے کے لیے ان کے صاحبزادے جمال مبارک کو ان کا جانشین بنانے کا تخیل بھی امریکا کا فراہم کردہ تھا۔

مصرمیں دو ماہ قبل رو نما ہونے والی تبدیلی اور منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بارے میں حسنی مبارک کہتے ہیں کہ "پہلے میں یہ سمجھ رہا تھا کہ جنرل عبدالفتاح السیسی اخوان المسلمون کے حامی ہیں، لیکن میرا یہ خیال انہوں نے غلط ثابت کر دکھایا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں آئندہ کوئی بھی صدر فوجی ہی ہونا چاہیے کیونکہ سویلین صدر کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تین جولائی کے بعد رابعہ العدویہ سکوائر میں جمع اخوان المسلمون کے حامیوں کو مظاہروں میں شرکت کے لیے بیرون ملک سے رقوم مل رہی تھیں۔ آڈیو ٹیپ میں حسنی مبارک نے جزیرہ نما سیناء میں فوجیوں پر حملوں کی ذمہ داری فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] پر عائد کی۔

معزول مصری صدر حسنی مبارک نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے غزہ کے شہریوں کو جزیرہ نما سیناء میں آباد کرنے کی تجویز دی تھی، جسے میں نے فورا اور سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ حسنی مبارک کے بہ قول نیتن یاھونے جب یہ تجویز دی تو میں نے اس کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ"FORGET IT" [کہ اس بات کو بھی بھول جائیے]۔

خیال رہے کہ جنوری 2011ء کے بعد حسنی مبارک کا زیادہ وقت جیل اور عدالتوں میں پیش ہونے میں گذرا ہے۔ موجودہ فوجی حکومت کے قیام کے بعد انہیں جیل سے رہا کیا گیا ہے مگران کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہنوز برقرار ہے۔ سابق صدرکی جانب سے طویل آڈیو ٹیپ پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔