.

مکہ مکرمہ: منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں کثیر المنزلہ خیموں کا منصوبہ

پانچ تاریخی مقامات کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ کے سیکرٹری ڈاکٹراسامہ فضل البار نے کہا ہے کہ مکہ میونسپل انتظامیہ شہرمیں موجود تین مشاعر مقدسہ مزدلفہ، منیٰ اور میدان عرفات میں حجاج کرام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ حجاج کرام کو کم وقت میں مناسک ادا کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے منٰی سمیت تینوں مقدس مقامات پر کثیرالمنزلہ خیموں کا منصوبہ جلد شروع کیا جائے گا۔

العربیہ ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری مکہ نے بتایا کہ شہری حکومت نے گذشتہ شعبان سے حج اورعمرہ کی غرض سے آنے والے غیرملکی مہمانوں کی خدمت کے لیے مختلف منصوبوں پرکام شروع کردیا تھا۔ ڈاکٹراسامہ فضل کے بقول "حکومت حجاج کرام کے لیے مناسک حج کے موقع پر ہرممکن آسانی پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ کسی خلل کے بغیر عبادت اور مناسک کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے"۔

مکہ گورنری کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسامہ فضل البار نے کہا کہ فوری طور پرہم نے منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو کشادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں روشنی کا نظام بہترکیا ہے تاکہ رات کے اوقات میں حجاج کرام کو آمد ورفت میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مشاعر مقدسہ میں صفائی کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔ فاضل غذائی مواد ،کوڑا کرکٹ کی صفائی اورطہارت کو یقینی بنانے کے لیے رضاکاروں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیکرٹریٹ کے متعلقہ تمام ملازمین چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر حجاج کرام کی مدد کے لیے حاضر ہوں گے۔

نئے منصوبوں کے بارے میں ڈاکٹراسامہ البارنے بتایا کہ ضلعی حکومت حجاج کی ضروریات کے پیش نظر کئی اہم پروجیکٹ پرغور کررہی ہے۔ ان میں عرفات، مزدلہ اور منیٰ میں زیادہ سے زیادہ حجاج کرام کی کم وقت میں موجودگی کو یقینی بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ان تینوں مقامات پر مناسک کی ادائی کے لیے کثیرالمنزلہ خیمے نصب کرنے کے علاوہ ٹیلوں اور پہاڑیوں پر عارضی قیام گاہیں بھی بنائی جا ئیں گی۔ یہ منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے۔ تینوں مشاعر مقدسہ میں سیوریج کا نظام بہتر کردیا گیا ہے۔

منیٰ کے جنوب میں العزیزیہ اور شمال میں المعیصم کالونیوں سے پیدل چلنے والے حجاج کرام کے لیے زیرزمین راستے بنائے جا رہے ہیں۔ منٰی میں زیرزمین راستوں کی تکمیل کے بعد سطح زمین پر حجاج کے رش کوکم کرنے میں مدد ملے گی۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈاکٹراسامہ البارکاکہنا تھا کہ مکہ مکرمہ میں کئی تاریخی مقامات ہیں، جنہیں سیرو سیاحت کے حوالے سے سہولیات سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں ضلعی حکومت نے ابتدائی طور پر پانچ اہم تاریخی مقامات کو سیرگاہیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبل النور ،جبل ثور اور بئر طویٰ سمیت متعدد تاریخی مقامات ہمیشہ غیرملکی زائرین کی توجہ کا مرکزرہے ہیں۔ حکومت ان مقامات کی سیاحتی اہمیت سے فائدہ اٹھائے گی۔