.

"جی سی سی" کا یورپی یونین کی طرز پر مشترکہ پولیس کے قیام پرغور

"ایک خلیجی ریاست پر حملہ سب پر حملہ تصور ہو گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی عرب ریاستوں پرمشتمل خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] نے یورپی یونین کی طرز پراپنے ہاں مشترکہ پولیس کے قیام پرغورشروع کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹرعبدالطیف الزیانی نے بحرین میں منعقدہ اسٹریٹجیک انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کونسل مشترکہ پولیس فورس کے قیام پرغور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کی مشترکہ پولیس کو نمونے کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خلیج تعاون کونسل نے اپنے رکن ملکوں کے عوام کی بہبود کے لیے کئی مشترکہ منصوبے شروع کئے ہیں۔ حال اورمستقبل میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ انکم ٹیکس یونین کا قیام ، تمام شہریوں کے لیےرُکن ممالک میں آزادانہ نقل وحمل، روزگا،رہائش اور کسی بھی ملک میں جائیداد بنانے کی سہولت فراہم کردی گئی ہے۔ کونسل کی جانب سے فراہم کردہ ان سہولیات کے بعد عوامی سطح پر بین الریاستی روابط میں اضافہ ہوا ہے اور شہری اعتماد اور اطمینان کے ساتھ دوسرے ملکوں میں سفر کرنے لگے ہیں"۔

ڈاکٹرالزیانی نے کہا کہ خلیجی ریاستیں اپنے مشترکہ مفادات کوبھی سمجھتی ہیں اور اپنے مشترکہ چیلنجز اورعلاقائی سلامتی کے مسائل سے بھی آگاہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل کے تمام ممبر ممالک نے یہ معاہدہ کرلیا ہے کہ کسی خلیجی ریاست پر حملہ تمام خلیجی ملکوں پر حملہ تصورہوگا اور تمام ممالک مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف لڑیں گے۔

جی سی سی کے سربراہ نے شام میں جاری خون خرابہ روکنے کے لیے ایک بار پھرعالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل پرزور انداز میں یہ مطالبہ ایک بار پھر کرتی ہے کہ شام میں عوام کے خلاف جاری مظالم کا سلسلہ بند کرایا جائے۔ شامی رجیم کے ہاتھ سے آلہ قتل بزور چھینا جائے اور شام کو توڑنے کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔