.

اخوانی یاد رکھیں کہ میں اب بھی پولیس سروس میں ہوں: خلفان

مبحوح قتل کیس کی تحقیقات سبکدوش پولیس چیف کا اہم کارنامہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں دبئی پولیس چیف ضاحی خلفان کی جگہ میجر جنرل خمیس مطرالمزینہ کو نیا پولیس سربراہ مقرر کرنے پر ملک میں سرگرم اخوان المسلمون کے حامیوں نے سُکھ کا سانس لیا مگر ضاحی خلفان نے اپنے ایک "ٹیوٹر" پیغام میں اخوانیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں کہیں بھی نہیں جا رہا ہوں۔ اب بھی دبئی پولیس سروس میں ہوں اور تم لوگوں کا تعاقب جاری رکھوں گا۔ تم مجھ سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے"۔

بعد ازاں "العربیہ" سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے سبکدوش پولیس چیف ضاحی خلفان نے کہا کہ اخوان المسلمون سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ میں اس تنظیم کی بیخ کنی اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ یہ ہمارے ملک کی سلامتی کے خلاف کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک پولیس افسرکے طور پر میں ملک وقوم کی سلامتی پر نظر رکھتا ہوں۔ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مجھے معلوم ہے کہ دبئی میں ایسے گروپ سرگرم ہیں جو ہمارے ملک کےخلاف مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ہم انہیں پوری طاقت سے کچلیں گے۔

دبئی پولیس سربراہ کی حیثیت سے ان کی خدمات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ضاحی خلفان نے کہا کہ "دبئی پولیس کو بہتر بنانے کے لیے میں دس سال مکمل جان نفشانی سے کام لیا۔ ملک کے ایسے ہونہار اور ذہین افراد کو بیرون ملک سے تعلیم دلوانے اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی تکمیل کے بعد پولیس میں بھرتی کیا گیا، تب جا کر دبئی کی پولیس کو دنیا کی بہترین پولیس کا درجہ ملا ہے"۔

خیال رہے کہ ضاحی خلفان کو سنہ 1980ء میں دبئی پولیس سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ پولیس سربراہ کی حیثیت سے انہوںنے سب سے پہلا کارنامہ سنہ 1986ء میں پولیس سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا انجام دیا۔ اگلے مرحلے میں دبئی میں آنے والے افراد کے فنگر پرنٹس کا نظام متعارف کرایا گیا۔ تاہم تینتیس سال کے اس طویل دورانیے میں دو سال قبل حماس رہنما محمود المبحوح کی دبئی میں پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کا کیس نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

ضاحی خلفان نے کم وقت میں جس ذہانت اور ذمہ داری سے اس کیس کی تحقیقات کیں اس سے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ملتا ہے۔ انہوں نے تحقیقات کے بعد ثابت کیا کہ مبحوح کے قتل میں اسرائیلی کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی"موساد" ملوث ہے جس نے اپنےغیر ملکی ایجنٹوں کو جعلی ویزوں پر دبئی پہنچایا اور جنہوں نے مبحوح پر ان کے ہوٹل میں قاتلانہ حملہ کر کے ان کی جان لی۔