.

شامی فوج اور حزب اللہ کے ہاتھوں قلمون میں دسیوں ہلاک

سرکاری فوج نے ایک ہفتے کے بعد قصبے کا قبضہ واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی دارالحکومت دمشق کے شمال میں بشار الاسد کی فوج اور حزب اللہ کے جنگ جووں نے قلمون کے نزدیکی دئیر عطیہ قصبے پر حملہ کر کے دسیوں شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔

شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حزب اللہ نے قلمون کے قصبے پر یلغار کر دی۔

شامی حکومت کے مخالف لوگوں کے ایک نیٹ ورک کے مطابق بشار رجیم نے قلمون کے علاقے دئیر عطیہ کو جمعرات کے روز دوبارہ قبضے میں لے لیا تھا۔

اس سے پہلے باغیوں نے چھ روز قبل سٹریٹیجک اہمیت کی حامل ایک ہائی وے پر قبضہ کر کے اسے بند کر دیا تھا ۔

واضح رہے قلمون میں چند روز پہلے لبنانی حکومت میں شامل وزیر زراعت کا بیٹا علی رضا فواد حزب اللہ کی طرف سے مقامی لوگوں کے خلاف لڑتا ہوا مارا گیا تھا۔ اس کے ہمراہ اس کے تین دیگر ساتھی بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے فوجی ذرائع کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ'' ہماری بہادر افواج نے دہشت گردوں کو کچلنے کے بعد دمشق کے قریب دئیر عطیہ کا قبضہ واپس لے لیا ہے۔''

اس قصبے پر اسلامی جہادی گروپوں النصرہ فرنٹ اور آئِی ایس آئی ایل نے ایک ہفتہ قبل جمعہ کے روز لڑائی کے بعد قبضہ کیا تھا۔ اب سرکاری ٹی وی کے مطابق اس علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔