.

جوہری معاہدے کے بعد، ایرانی وزیر خارجہ عرب ملکوں میں

سعودی عرب بھی جاوں گا، معاہدہ خطے کے مفاد میں ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے خلیجی، عرب ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ جوہری ایشو پر چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ہونے والا ایرانی معاہدہ ان ممالک کے بھی مفاد میں ہے۔ اس امر کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے دورہ کویت کے موقع پر وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الصباح کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

جواد ظریف نے اس موقع پر جلد سعودی عرب کے دورے پر جانے کا بھی اعلان کیا اور کہا وہ سعودی قیادت کو اعتماد میں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا '' ایرانی جوہری معاہدہ خطے میں کسی ملک کی توسیع پسندی کا مظہر نہیں ہو گا بلکہ یہ خطے کے تمام ملکوں کے مفاد میں ہے۔''

جواد ظریف نے کہا '' میں یقین دلاتا ہوں کہ ہمارا معاہدہ پورے خطے کے استحکام اور سلامتی کیلیے مفید ہو گا ۔'' واضح رہے ایرانی وزیر خارجہ کا خلیجی ملک کا یہ پہلا دورہ ہے۔

کویت کے بعد جوز ظریف عمان روانہ ہو گئے۔ اومان ہی وہ ملک ہے جس نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران خفیہ مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں 24 نومبر کو تاریخی معاہدہ ممکن ہوا۔

عمان پہنچتے ہی جواد ظریف نے ایرانی صدرحسن روحانی کا خصوصی پیغام سلطان قابوس کو پہنچایا ۔ عمانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیغام دو طرفہ تعاون کےجذبے اور خیر سگالی کے حوالے سے ہے۔

خیال رہے عمان اور ایران کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں، یہ عمان کے سلطان قابوس ہی تھے جو ماہ اگست کے دوران تہران میں حسن روحانی کے پہلے مہمان بنے۔ البتہ عرب دنیا میں با لعموم ایرانی پروگرام کو خطرے کی چیز سمجھا جاتا ہے۔