مشرق وسطی: سردی کی لہر، شامی پناہ گزینوں کا برا حال
کیچڑزدہ خیمہ بستیاں، برفانی طوفان کی یلغار، بےچارگی کی انتہا
تکلیف دہ سرمائی طوفانی موسم نے مشرق وسطی میں پھیلے شامی پناہ گزینوں کی زندگی اور بھی مشکل بنا دی ہے۔ برفانی طوفان کے باعث سڑکیں اور سکول بند ہو گئے ہیں۔ بیروت میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بے چارگی کی زندگی گذارنے والے مزید برے حال کا شکار ہو رہے ہیں۔
پورے لبنان کی کیچڑ زدہ خیمہ بستیوں میں لاکھوں پناہ گزین شامی کیچڑ اور سردی سے ٹھٹھڑ رہے ہیں۔ انہی میں ایک تنگ آئے 13 سالہ شاکر کا کہنا ہے کہ '' مجھے سردی سے نفرت ہے۔''
بیروت کی پہاڑیوں میں گھری خیمہ بستیوں میں ایسے ہزاروں بچے ہیں جن کے سر کیلیے گرم ٹوپی ہے نہ ننھے ہاتھوں کیلیے دستانے ہیں کہ خود کو سردی سے محفوظ کر سکیں۔ سردی سے بےحال ہو کر چھینکنا اور اپنے ہاتھوں کو رگڑ رگڑ کر گرم کرنے کی کوشش میں مگن رہنا ان کی مصروفیات ہیں۔
واضح رہے پچھلے تین برسوں کے دوران تقریبا آٹھ لاکھ سے زائد شامی شہری لبنان کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ امن اور عافیت کہ ابھی شام میں ممکن ہو سکی ہے نہ لبنان میں میسر ہے۔
لبنان کے ساتھ ساتھ پورے مشرق وسطی کے پہا ڑیوں پر برفباری اور بارش کا سایہ پھیلا ہوا ہے ۔ جس کی وجہ پورے مشرق وسطی میں سردی کی ایک لہر ہے۔ یقینا سب سے برا حال ہے ان بے گھر بے در شامیوں کا ہے، جو کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
غزہ کے عوام کا بھی تقریبا یہی حال ہے ۔ بارشوں کی وجہ سے گلیوں میں پانی کی بہتات ہے جبکہ گھروں کے اندر کمبلوں کی کمی کا سامنا ہے ہے کہ ناکہ بندی کی وجہ کہیں سے کچھ آ بھی نہیں سکتا۔
-
چار سو شامی باشندوں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم
شامی شہری حج کے بعد وطن واپس نہیں لوٹے تھے
بين الاقوامى -
''ذمے دار ممالک'' شامی مذاکرات کی حمایت کریں:سرگئی لاروف
ایران ''اہم کھلاڑی'' ہے اور وہ شامی تنازعے کے حل میں مدد دے سکتا ہے
بين الاقوامى -
خلیج تعاون کونسل کا اعلامیہ مگر مچھ کے آنسو ہیں: شام
شامی وزارت خارجہ کیطرف سے شامی معاملات میں ''مداخلت'' کی مذمت
مشرق وسطی