خلیج تعاون کونسل کا اعلامیہ مگر مچھ کے آنسو ہیں: شام
شامی وزارت خارجہ کیطرف سے شامی معاملات میں ''مداخلت'' کی مذمت
شام کی حکومت نے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شام کے مستقبل کے بارے میں سامنے آنے والے خیالات کو شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور آتش بیانی قرار دیا ہے۔
خلیج تعاون کونسل نے اپنے اجلاس کے بعد بدھ کے روز جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا تھا کہ'' شام کی خانہ جنگی میں حصہ لینے والی غیر ملکی افواج کا انخلا کیا جائے۔ نیز ''نئے شام '' میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔'' اس پر شامی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ'' خلیج کونسل میں شامل ملک عملی طور دہشت گردی کی مدد اور عمل میں ملوث ہیں۔''
واضح رہے قطر، اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک شام میں اپوزیشن کی مزاحمت کی کھلی حمایت کرتے ہیں، جبکہ شامی حکومت اسے دہشت گردی قرار دیتی ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے ''جو ممالک تعاون کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے ہیں ان میں سے سعودی رجیم نے شامی شہریوں کی وسیع پیمانے پر قتل وغارت گری اور شام کی تباہی میں حصہ لیا ہے، ایسے ملکوں کا اہل شام کے بارے میں اظہار ہمدردی مگر مچھ کے آنسووں کے سوا کچھ نہیں ہے۔''
شام میں شہریوں کے قتل کے بارے میں جی سی سی کا موقف ہے کہ '' یہ بشار رجیم ہی ہے جس کے دامن پر خون کے دھبے ہیں۔'' اس کے جواب میں شام کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ '' خلیج تعاون کونسل کا اعلامیہ ان ملکون کی عیاری ہے جن کے ہاتھ شام کے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔''
-
خلیجی ممالک کی مشترکہ فوجی کمان، اتحاد کی طرف قدم؟
ماہرین اس فیصلے کو امریکا اور ایران دونوں کیلیے پیغام سمجھتے ہیں
مشرق وسطی -
''نئے شام ''میں بشارالاسد کا کردار نہیں ہو گا
مشترکہ فوجی کمان کی تشکیل پر اتفاق، خلیجی تعاون کونسل
مشرق وسطی -
شامی قومی کونسل کی نیشنل اتحاد سے علاحدگی کی دھمکی
قومی کونسل اسد مخالف قوتوں کا سب سے بڑا گروپ ہے
مشرق وسطی -
بشارالاسد کی حمایت فرض عین ہے: مفتیٔ اعظم شام
شام کے اندر اور باہر رہنے والے مسلمان صدر اسد کا ساتھ دیں
صفحة اول