جامعہ الازہرمیں پولیس کی کارروائی،19 سالہ طالب علم ہلاک

دہشت گرد طلبہ نے تاریخی جامعہ میں دو عمارتوں آگ لگادی، سرکاری ٹیلی ویژن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سکیورٹی فورسز نے قاہرہ میں تاریخی جامعہ الازہر میں گھس کر حکومت مخالف احتجاج کرنے والے طلبہ پر قابو پانے کے لیے کارروائی کی ہے جس کے دوران ایک 19 سالہ طالب علم ہلاک ہوگیا ہے۔

مقتول طالب علم کا نام خالد الحدید بتایا گیا ہے اور وہ سکیورٹی فورسز اورطلبہ میں تصادم کے دوران ہلاک ہوا ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی اسلام پسند طلبہ نے ہفتے کے روز جامعہ کی کامرس فیکلٹی کی عمارت کو آگ لگا دی۔اس وقت پولیس جامعہ میں داخل ہوچکی تھی اور اس نے طلبہ کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خالدالحدید کی موت پولیس کی گولی لگنے کے نتیجے میں ہوئی ہے یا اس کا کوئی اور سبب بنا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اخوان کے حامی طلبہ نے جامعہ الازہر میں پولیس کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کی اور جامعہ کی دو عمارتوں کو آگ لگا دی۔ سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹ کے دوران جامعہ کے اندر سے دھواں اٹھتے ہوئے دکھایا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گرد طلبہ نے کامرس فیکلٹی کے ساتھ ساتھ زرعی تعلیم کے شعبے کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔

یاد رہے اسی ہفتے کے دوران مصر کی عبوری حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے حامیوں کی طرف سے ہرقسم کے احتجاج پر پابندی لگادی ہے۔ اس فیصلے پر عالمی سطح پر بھی تنقید کی گئی ہے لیکن عبوری حکومت اپنے موقف پر قائم ہے۔

عبوری حکومت نے اس فیصلے پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کے لیے اخوان کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف ایک نئے کریک ڈاؤن کا بھی آغاز کر دیا۔اس کریک ڈاون کے دوران ایک روز قبل دو افراد ہلاک جبکہ ایک سو پچاس گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ جامعہ الازہر کے طلبہ عبوری حکومت کے اخوان مخالف فیصلوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے نئے کریک ڈاؤن کے دوران مسلسل دوسرے روز اخوان کے حامیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں