.

شام کے ترجیحی کیمیائی ہتھیاروں کی پہلی کھیپ بیرون ملک روانہ

دومقامات سے لایا گیا کیمیائی مواد اللاذقیہ کی بندرگاہ سے ڈینش جہاز پر منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی پہلی کھیپ دومقامت سے ساحلی شہر اللاذقیہ کی بندرگاہ پر منتقل کردی ہے اور انھیں وہاں سے سمندر برد کرنے کے لیے ڈنمارک کے ایک بحری جہاز کے ذریعے بیرون ملک لے جایا گیا ہے۔

ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''شامی حکومت نے دوجگہوں سے ترجیحی کیمیائی مواد کو تصدیق کے لیے اللاذقیہ منتقل کیا تھا اور پھر اس کو ڈنمارک کے ایک چھوٹے بحری جہاز پر لاد کر ملک سے باہر لے جایا گیا ہے''۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ بحری جہاز بین الاقوامی پانیوں کی جانب رواں دواں ہے۔اس کے ساتھ ڈنمارک اور ناروے کے علاوہ شامی عرب جمہوریہ کا بحری عملہ ہے۔یہ جہاز شامی بندرگاہ سے دوسرے ترجیحی کیمیائی مواد کی آمد تک سمندر میں ہی موجود رہے گا۔

واضح رہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلفی کے لیے پہلے سے طے شدہ ڈیل کے تحت 31 دسمبر تک بیرون ملک منتقل کیا جانا تھا لیکن اس عمل میں شام کی جانب سے تاخیر ہوئی ہے۔شام کے بیرون ملک منتقل کیے جانے والے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو اپریل تک ٹھکانے لگایا جائے گا اور باقی ہتھیاروں کو 2014ء کے وسط تک تلف کیا جائے گا۔تاہم ان کم خطرناک ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

اوپی سی ڈبلیو کے مطابق پینتیس تجارتی کمپنیوں نے کم خطرناک اور کم ترجیح والے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کی پیش کش کی تھی۔ماہرین اس سے پہلے اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کو سمندر برد کرنے سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور زہریلے مادے سطح آب پر آسکتے ہیں لیکن شامی ہتھیاروں کے بارے میں عالمی سطح پر تشویش کے باوجود کسی بھی ملک نے ان کو اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے کی ہامی نہیں بھری تھی۔

شام اپنے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے اقوام متحدہ اور اوپی سی ڈبلیو کے مشن سے تعاون کررہا ہے اور وہ پہلے بتا چکا ہے کہ اس کے پاس 1290 ٹن کیمیائی ہتھیار اور ان کے مشمولات ہیں۔ان کے علاوہ اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ نامکمل کیمیائی ہتھیار،گولے ،راکٹ اور مارٹر گولے وغیرہ ہیں۔

مذکورہ مشن اکتوبر سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا سراغ لگانے اور ان کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے کام کررہا تھا۔اس مشن نے شام کے تمام کیمیائی ہتھیاروں کا سراغ لگا کر انھیں سربہ مہر کردیا تھا اور ان کی تیاری کی جگہوں اور تنصیبات کو تباہ کردیا تھا۔