شام میں باغیوں کے درمیان باہمی لڑائی میں 700 ہلاکتیں
وسطی شہر حمص میں شامی فوج کی گولہ باری سے 20 سے زیادہ افراد مارے گئے
شام کے تین صوبوں حلب ،ادلب الرقہ میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے جہادیوں اور باغی جنگجو گروپوں کے درمیان گذشتہ نوروز سے جاری شدید جھڑپوں میں سات سو افراد ہلاک اور سیکڑوں لاپتا ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم غیر سرکاری تنظیم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو فراہم کردہ اعدادوشمار میں بتایا ہے کہ''3 جنوری سے 11 جنوری تک دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں اور شامی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں کل 697 افراد مارے گئے ہیں۔ان میں 351 باغی جنگجو،246 داعش کے ارکان اور 100 عام شہری ہیں''۔
آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے بڑھ بھی سکتی ہے کیونکہ بہت سی اموات کی تفصیل اسے موصول نہیں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ سیکڑوں افراد لاپتا ہیں یا ان جنگجو گروپوں کے زیر حراست ہیں اور ان کا اتا پتا معلوم نہیں کہ آیا وہ زندہ ہیں یا انھیں موت سے ہم کنار کردیا گیا ہے۔
گذشتہ نو روز کے دوران داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے سولہ خودکش بم حملے کیے ہیں۔ان میں زیادہ تر خودکش بم دھماکے تھے اور ان میں بیسیوں باغی جنگجو اور عام شہری مارے گئے ہیں۔
آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ حلب ،ادلب ،حمص اور الرقہ میں اس طرح کے خودکش بم حملوں میں دسیوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
داعش کے ایک کمانڈر نے شامی صدر بشارالاسد کی فوجوں کے خلاف برسرپیکار جنگجوؤں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے ان کے گروپ کے خلاف مسلح کارروائی جاری رکھی تو وہ خودکش بم حملے کریں گے۔آبزرویٹری کے مطابق صرف ہفتے کے روز تین صوبوں حلب ،ادلب اور الرقہ میں انتالیس باغی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
داعش کے خلاف لڑائی کی قیادت کرنے والے باغی جنگجو گروپ احرارالشام سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو کا کہنا ہے کہ ''وہ صرف جنگجوؤں ہی کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو خوف زدہ کرنے کے لیے خودکش حملے کررہے ہیں''۔اس کے بہ قول ''ان کا یہ سب سے مہلک ہتھیار ہے اور وہ دوسرے ذرائع بروئے کار نہ آنے کی صورت میں اس کو استعمال کرتے ہیں''۔
صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجو گروپوں اور القاعدہ کے درمیان شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو ہتھیانے کے لیے گذشتہ ایک ہفتے سے خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔ان کے درمیان مشرقی شہر الرقہ سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے بھی لڑائی ہورہی ہے۔اس لڑائی میں داعش کو پسپائی اور شکست کا سامنا ہے۔
القاعدہ سے وابستہ گروپ کے ترجمان نے گذشتہ منگل کو اپنے اپنے جنگجوؤں سے کہا تھا کہ وہ دوسرے باغی گروپوں کو ''تہس نہس'' کردیں۔داعش کے ترجمان ابومحمد العدنانی نے ایک ویڈیو بیان میں اپنے جنگجوؤں سے کہا کہ ''وہ انھیں (باغیوں کو) مکمل طور پر ختم کردیں اور سازش کو اس کی پیدائش پر ہی قتل کردیں''۔
درایں اثناء وسطی شہر حمص میں سرکاری فوج کی گولہ باری سے بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔حمص کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے وائر میں شامی فوج نے شدید گولہ باری کی ہے۔
شامی آبزرویٹری کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بیسیوں افراد کی حالت نازک ہے۔شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے ایک مرتبہ پھر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو فضائی اور زمینی حملوں میں نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور اس کی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔