تیونسی اسمبلی نے دستور کی حتمی منظوری دے دی
بان کی مون کی طرف سے خیر مقدم
تیونس کی قومی اسمبلی نے نئے دستور کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ ملک میں مکمل جمہوریت کی طرف بڑھنے کے حوالے سے یہ ایک اہم قدم ہو گا۔
اس سے پہلے تیونس کی اسمبلی نے نئے دستور کی شق وار منظوری دی تھی۔ اب اسمبلی کی طرف سے حتمی منظوری کے بعد دستور نافذالعمل ہو جائے گا اور نئے انتخابات نئے دستور کے مطابق ہوں گے۔
دو ہزار گیارہ میں مطلق العنان حکمران سے نجات پانے میں کامیاب ہونے والی تیونس کے عوام اور رہنماوں نے جمہوریت کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے تیونس میں نئے دستور کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیونس کا ماڈل ایسے دوسرے ملکوں کیلیے ایک نمونہ جو اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔
بان کی مون نے کہا '' تیونس نے نیا دستور اپنا کر ایک اہم جمہوری سنگ میل عبور کر لیا ہے۔'' بان کی مون کا یہ بیان ان کے ترجمان مارٹن نیرسکی کی طرف سے سامنے آیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا '' جمہوری اداروں کی مضبوطی سے احتساب کا فروغ ہو گا اور قانون کی بالا دستی ممکن ہو گی۔'' انہوں نے امید ظاہر کی کہ تیونس کے سیاسی کھلاڑی اگلے مرحلے میں پر امن انداز میں انتخابات کرائیں گےاور ملکی معیشت کو استحکام دیں گے۔''
-
تیونس: نامزد وزیر اعظم نئی کابینہ بنانے میں ناکام
کابینہ میں قابل وزراء شامل ہیں، اتفاق رائے کا منتظر ہوں: مہدی جمعہ
بين الاقوامى -
تیونس: نامزد وزیر اعظم کی قیادت میں نئی کابینہ کا اعلان
دستور ساز اسمبلی نے کثرت رائے سے نئے آئین کی منظوری دے دی
بين الاقوامى -
تیونس: قومی اسمبلی نے نئے دستور کی شق وار منظوری دے دی
ارکان نے خوشی میں قومی ترانہ پڑھا اور ملکی استحکام کیلیے دعائیں کیں
بين الاقوامى