.

معزول صدر کیخلاف مقدمہ قتل کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

عدالت کو جواب دینا چاہتا ہوں، کچھ سنا نہیں جا رہا: محمد مرسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف ان کی معزولی کے بعد بنائے گئے مقدمہ قتل کی سماعت چار فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ محمد مرسی نے ہفتے کے روز مقدمے کی سماعت کے دوران یہی موقف جاری رکھا کہ ہے کہ وہ آج بھی مصر کے آئینی اور قانونی صدر ہیں۔ اس حوالے سے مرسی کیخلاف مقدمہ قتل فوجی حمایت سے قائم عبوری حکومت کیلیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

اخوان المسلمون کی اتحادی مذہبی جماعتوں نے ہفتے کے روز فوج کے ہاتھوں معزول کیے گئے منتخب صدر کے حق میں ملک گیر احتجاج کی اپیل کر رکھی تھی ۔ مصری سکیورٹی حکام نے اس احتجاج کو روکنے کیلیے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔

ہفتے کے روز مرسی کیخلاف پولیس اکیڈمی میں مقدمے کی تیسری سماعت ہوئی تو انہوں بار بار کہا کہ "انہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا اور وہ عدالت کو جواب دینا چاہتے ہیں۔" انہوں نے الگ سماعت کا بھی مطالبہ کیا۔

محمد مرسی اور ان کے علاوہ ان کے 14 ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 2012 میں مخالف مظاہرین کو قتل کرنے کیلیے اکسایا تھا۔ ان کے ایک شریک ملزم اور اخوان کے رہنما محمد البلتاجی نے سماعت کے موقع پر کہا ''ہم عدالت میں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ہم کچھ سن پا رہے ہیں ۔''

مقدمے کی پچھلی سماعت موسم کی خرابی کے باعث ممکن نہ رہی تھی کیونکہ معزول صدر کو جیل سے پولیس اکیڈمی میں قائم عدالت میں پیش کرنا ممکن نہ رہا تھا۔ انہیں چار مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور 28 جنوری کو جیل توڑنے کے مقدمے کی سماعت میں بھی ان کا موقف تھا کہ وہ ملک کے جائز اور آئینی صدر ہیں کہ انہیں مصری عوام نے منتخب کیا تھا۔

تین جولائی 2013 کو مصری صدر کی برطرفی کے بعد سے اب تک اخوان کی ساری قیادت نہ صرف جیلوں میں بند ہے بلکہ تقریبا سبھی کو قتل یا دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات کا سامنا ہے اور ماہ دسمبر سے فوجی زیر سرپرستی قائم عبوری حکومت اخوان کو دہشت گرد جماعت قرار دے چکی ہے۔