.

شامی باغیوں پر ''داعش'' کا خودکش بم حملہ،16 ہلاک

مذاکرات کار کے روپ میں آنے والے جنگجو نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبہ حلب میں القاعدہ سے وابستہ گروپ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے مذاکرات کار کے روپ میں آنے والے ایک جنگجو نے باغیوں کے ایک اڈے پر خودکش حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں سولہ اسلامی جنگجو ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق داعش کے ایک جنگجو نے حلب کے قصبے الراعی میں اسلامی باغیوں کے ایک بریگیڈ کے ہیڈکوارٹرز میں خودکو دھماکے سے اڑایا ہے اور عین اسی وقت اس عمارت کے باہر ایک کار بم دھماکا ہوا ہے۔

خود کش بمبار مذاکرات کار کے روپ میں آیا تھا اور اس نے داعش کی جانب سے جنگ بندی کے لیے باغی جنگجوؤں کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی لیکن اس نے کوئی بات چیت کرنے کے بجائے دھماکا کردیا۔اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی۔

الراعی کا قصبہ شام کی ترکی ساتھ واقع سرحد کے نزدیک ہی واقع ہے۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق شامی باغیوں کے ہیڈکوارٹرز کے اندر اور باہر ایسے وقت میں دھماکے ہوئے ہیں جب وہ دولت اسلامی عراق وشام کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔

خودکش بم حملے کا نشانہ بننے والے باغی جنگجو اسلامی بریگیڈز سے تعلق تھے اور ان کی جنوری کے آغاز سے شام کے تین صوبوں حلب ،ادلب اور الرقہ میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور اس لڑائی میں چودہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم آبزرویٹری کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ دونوں متحارب گروہ جھڑپوں میں کام آنے والے اپنے اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتیں چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ متحارب جنگجو گروپوں نے ایک دوسرے کے متعدد مسلح افراد کو گرفتار بھی کر رکھا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے گذشتہ ماہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم دولت اسلامی عراق وشام سے تعلق رکھنے والے گرفتار جنگجوؤں کی ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں انھیں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت سے روابط کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ سے وابستہ گروپ داعش نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سات خفیہ جیلیں قائم کررکھی تھیں۔وہاں چوری ،سگریٹ نوشی اور زنا جیسے جرائم میں ملوث ملزموں کو قید رکھا جاتا تھا۔اسلامی جنگجوؤں پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ سمری ٹرائل کے بعد لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں،کوڑے لگا رہے ہیں اور فائرنگ سے قتل کررہے ہیں۔