شام کے سرکاری وفد کی امن مذاکرات کے لیے جنیوا آمد

حزب اختلاف کے ساتھ 10 فروری سے بات چیت کے نئے دور کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کا سرکاری وفد حزب اختلاف کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ گیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق وفد کی قیادت وزیرخارجہ ولید المعلم کررہے ہیں۔جنیوا دوم کے تحت شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان سوموار دس فروری سے مذاکرات کا نیا دور شروع ہورہا ہے۔ولید المعلم اتوار کو جنیوا پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضرالابراہیمی سے ملاقات کرنے والے تھے۔

دس روز قبل جنیوا دوم کانفرنس کا پہلا دور کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہوا تھا اور شامی حکومت اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہے مذاکرات کے دوران تصفیہ طلب امور طے کرنے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا تھا۔

تب شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے حزب اختلاف کے وفد کی عدم سنجیدگی اور عدم بلوغت کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''حزب اختلاف کا وفد ایسا رویہ ظاہر کر رہا تھا کہ شاید ہم یہاں ایک گھنٹے کے لیے سب کچھ ان کے حوالے کرنے آئے ہیں۔یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ التباسوں میں رہ رہے تھے''۔

مذاکرات کے پہلے دور میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کا وفد دونوں ہی خود کو شامی عوام کا نمائندہ قرار دیتے رہے تھے جبکہ اسد حکومت کا دعویٰ ہے کہ باغی امریکا ،ترکی اور خلیجی بادشاہتوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔

ولیدالمعلم کا کہنا تھا کہ جنیوا اول کا اعلامیہ شامیوں کی عدم موجودگی میں وضع کیا گیا تھا۔ان کے بہ قول اس کی دونوں فریق اپنے اپنے انداز میں تشریح کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے تشویش کا سب سے بڑا سبب دہشت گردی سے نمٹنا ہے جبکہ حزب اختلاف شام میں جو کچھ رو نما ہورہا ہے،اس سے مکمل طور پرلاتعلق ہے اور وہ انتقال اقتدار پر اصرار کررہی ہے۔

دوسری جانب شامی حزب اختلاف کے سربراہ احمد الجربا نے مذاکرات کی ناکامی کو مسترد کردیا اور کہا یہ فی نفسہ اس لحاظ سے ایک کامیابی ہیں کہ ہم نے ایک ایسے رجیم سے بات چیت کی ہے جو خود کو اکیلا ہی شامی عوام کا نمائندہ قراردیتا رہا ہے۔

احمدالجربا نے کہا کہ حزب اختلاف مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کرے گی۔انھوں نے شامی حکومت کے وفد پر جنیوا میں بات چیت کے دوران عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ واضح رہے کہ 30 جون 2012ء کو طے پائے جنیوا اوّل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عبوری حکومت میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں