شام کے سرکاری وفد کی امن مذاکرات کے لیے جنیوا آمد
حزب اختلاف کے ساتھ 10 فروری سے بات چیت کے نئے دور کا آغاز
شام کا سرکاری وفد حزب اختلاف کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ گیا ہے۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق وفد کی قیادت وزیرخارجہ ولید المعلم کررہے ہیں۔جنیوا دوم کے تحت شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان سوموار دس فروری سے مذاکرات کا نیا دور شروع ہورہا ہے۔ولید المعلم اتوار کو جنیوا پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضرالابراہیمی سے ملاقات کرنے والے تھے۔
دس روز قبل جنیوا دوم کانفرنس کا پہلا دور کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہوا تھا اور شامی حکومت اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہے مذاکرات کے دوران تصفیہ طلب امور طے کرنے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا تھا۔
تب شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے حزب اختلاف کے وفد کی عدم سنجیدگی اور عدم بلوغت کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''حزب اختلاف کا وفد ایسا رویہ ظاہر کر رہا تھا کہ شاید ہم یہاں ایک گھنٹے کے لیے سب کچھ ان کے حوالے کرنے آئے ہیں۔یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ التباسوں میں رہ رہے تھے''۔
مذاکرات کے پہلے دور میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کا وفد دونوں ہی خود کو شامی عوام کا نمائندہ قرار دیتے رہے تھے جبکہ اسد حکومت کا دعویٰ ہے کہ باغی امریکا ،ترکی اور خلیجی بادشاہتوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔
ولیدالمعلم کا کہنا تھا کہ جنیوا اول کا اعلامیہ شامیوں کی عدم موجودگی میں وضع کیا گیا تھا۔ان کے بہ قول اس کی دونوں فریق اپنے اپنے انداز میں تشریح کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے تشویش کا سب سے بڑا سبب دہشت گردی سے نمٹنا ہے جبکہ حزب اختلاف شام میں جو کچھ رو نما ہورہا ہے،اس سے مکمل طور پرلاتعلق ہے اور وہ انتقال اقتدار پر اصرار کررہی ہے۔
دوسری جانب شامی حزب اختلاف کے سربراہ احمد الجربا نے مذاکرات کی ناکامی کو مسترد کردیا اور کہا یہ فی نفسہ اس لحاظ سے ایک کامیابی ہیں کہ ہم نے ایک ایسے رجیم سے بات چیت کی ہے جو خود کو اکیلا ہی شامی عوام کا نمائندہ قراردیتا رہا ہے۔
احمدالجربا نے کہا کہ حزب اختلاف مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کرے گی۔انھوں نے شامی حکومت کے وفد پر جنیوا میں بات چیت کے دوران عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ واضح رہے کہ 30 جون 2012ء کو طے پائے جنیوا اوّل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عبوری حکومت میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی۔
-
جنیوا مذاکرات کا کوئی''ٹھوس'' نتیجہ برآمد نہیں ہوا: ولید المعلم
حزب اختلاف نے عدم سنجیدگی اور نابالغ پن کا مظاہرہ کیا ہے: صحافیوں سے گفتگو
مشرق وسطی -
جنیوا مذاکرات میں برف پگھل رہی ہے:الاخضرالابراہیمی
شامی فریقوں کے درمیان پہلی مرتبہ عبوری حکومت کے قیام پر بات چیت
مشرق وسطی -
شامی حکومت کی جنیوا مذاکرات سے واک آؤٹ کی دھمکی
الابراہیمی شامی وفد اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے کوشاں
مشرق وسطی -
جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کا دعوت نامہ منسوخ
شام میں عبوری حکومت کی حمایت نہ کرنے پر یو این سیکریٹری جنرل کا فیصلہ
بين الاقوامى -
شامی اپوزیشن گروپ جنیوا مذاکرات میں شرکت پر رضامند
انقلاب پر سودے بازی کیے بغیر شرکت کا فیصلہ کثرت رائے کیا گیا: الجربا
مشرق وسطی -
بشارالاسد کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں:دوستان شام کا اتفاق
شامی قومی اتحاد پر بحران کے سیاسی حل کے لیے جنیوا مذاکرات میں شرکت پر زور
مشرق وسطی