.

ڈاکٹر مرسی پرایران کو مصر کے خفیہ راز دینے پر فرد الزام

اخوان کے 35 لیڈروں پر پاسداران انقلاب ایران سے مل کر مصر مخالف سازش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹرز نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی پر ایران کے پاسداران انقلاب کو ریاست کے خفیہ راز افشاء کرنے کا الزام عاید کیا ہے جن کا مقصد مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے معزول صدر پر یہ سنگین الزام اتوار کو ان کے خلاف مقدمے کی دوسری سماعت پر عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اخوان کے پینتیس دوسرے لیڈروں، فلسطینی جماعت حماس اور ایران کے ساتھ مل کر مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کی تھی۔

ڈاکٹر محمد مرسی اور دوسرے مدعاعلیہان کے خلاف ریاست کے خفیہ راز افشاء کرنے کے الزام میں قائم اس مقدمے کی 16 فروری کو سماعت شروع ہوئی تھی۔آج ان کے خلاف عدالت میں تفصیلی فرد الزام پڑھ کر سنائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ''انھوں نے ایک غیر ملک کو قومی دفاعی راز فراہم کیے تھے اور ایران کے پاسداران انقلاب کو سکیورٹی رپورٹس دی تھیں جن کا مقصد ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا''۔

عدالت میں پڑھے گئے بیان میں اس ''غیرملک'' کا نام نہیں لیا گیا لیکن پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی اور دوسرے مدعاعلیہان نے اخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم اور حماس کی جانب سے جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دی تھیں تاکہ 2005ء سے اگست 2013ء تک ملک میں دہشت گردی کے حملوں کے ذریعے افراتفری پھیلائی جاسکے اور ریاست کو تہس نہس کیا جاسکے۔

معزول صدر کو عدالت میں آواز بند شیشے کے پنجرے میں دوسرے مدعاعلیہان سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا تا کہ وہ عدالتی کارروائی میں رخنہ نہ ڈال سکیں لیکن اس کے باوجود اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو بآواز بلند مسترد کرتے رہے۔

جب جج نے ان سے کہا کہ کیا وہ ان الزامات کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ ''کالعدم'کالعدم'' کے نعرے لگاتے رہے۔اگر وہ اس مقدمے میں قصوروار ثابت ہوجاتے ہیں تو انھیں سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ان میں سے بعض مدعاعلیہان پر جنوری 2011ء میں مسلح گروپوں کو ملک کے اندر لانے اور بیرون ملک بھیجنے کے بھی الزامات عاید کیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ انھوں نے یہ سب کچھ پولیس اور فوج کی تنصیبات پر حملوں کے لیے کیا تھا تاکہ قیدیوں کو فرار کرایا جاسکے۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 27 فروری تک ملتوی کردی ہے۔

معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی،اخوان کے لیڈروں اور لبرل کارکنان سمیت چوبیس افراد کے خلاف عدلیہ کی توہین سمیت مختلف الزامات کے تحت تین اور مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان میں اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی شہ دینے ،غیر ملکی گروپوں کے ساتھ مل کر سازش کرنے اور جیل توڑنے کے الزامات پر مبنی مقدمات شامل ہیں۔ان تینوں کیسوں میں انھیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔