.

اسلام پسندوں کے ووٹ نہیں چاہییں، متوقع مصری صدارتی امیدوار صباحی

مارشل السیسی کا احترام کرتا ہوں، فوج الکشن میں ملوث نہ ہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں بائیں بازو کے رہنما حامدین صباحی نے آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام پسندوں کے ووٹوں کے خواہش مند نہیں ہیں۔ وہ پہلے متوقع امیدوار ہیں جنہوں نے خود کو باضابطہ طور صدارت کیلیے پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشلسٹ پاپولر کے سربراہ حامدین صباحی نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ '' میں ایسے لوگوں کا ووٹ نہیں چاہتا جو 25 جنوری 2011 کو آنے والی تبدیلی کو ایک دھچکا اور 3 جولائی 2013 کی تبدیلی کو بغاوت سمجھتے ہیں۔ '' انہوں نے مزید کہا میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے ووٹ نہیں لینا چاہتا اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ صدارتی انتخاب زیادہ مشکل ہوں گے۔

حامدین صباحی نے اپنے جیت کے قوی امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا مرسی کے مقابلے میں صدارتی امیدوار کے طور پر مجھے کمزور امیدوار خیال کیا جا رہا تھا لیکن میں نے پچاس لاکھ ووٹ حاصل کر لیے ، یہ اللہ کی رحمت تھی۔ واضح رہے حامدین صباحی نیشنل سالویشن فرنٹ کے نمایاں رہنماوں میں شامل رہے ہیں۔

'' العربیہ'' سے اپنے خصوصی انٹرویو کے دوران انہوں نے مصر کے فوجی سربراہ اور نائب وزیر اعظم فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے امکانی صدارتی امیدوار ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بطور امیدوار پیش کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا '' میں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ ملک کو ریفنڈم کی طرف جانے سے بچایا جائے۔ کیونکہ السیسی کے لیے حمایت کے امکان سے وہ واحد صدارتی امیدوار ہو سکتے تھے۔''

صباحی نے کہا بطور صدر ان کی ترجیح سماجی انصاف ہو گا ، '' میں السیسی کی مقبولیت کے باوجود جیت کی نیت سے صدارتی امیدوار بن رہا ہوں۔'' انک کہنا تھا وہ السیسی کا احتام کرتے ہیں تاہم فوج سے کہیں گے کہ وہ انتخاب میں ملوث نہ ہو ، فوج کے ملوث ہونے ملک میں تقسیم بڑھ جائے گی۔''

متوقع صدارتی امیدوار نے کہا '' میں مارشل السیسی کا ان کے 3 جولائی کو اختیار کیے گئے موقف کیلیے احترام کرتا ہوں ، لیکن اس بات کا کوئی لینا دینا نہیں کہ میں ان کے حق میں ہوں یا ان کے خلاف ہوں۔

تاہم انہوں نے مارشل السیسی کے لیے احترام کا اظہار کرنے کے باوجود عبوری کابینہ کے ارکان پر تنقید کی اور کہا '' ساری نئی حکومت چھلنی سے گذری ہوئی ہے اور اس میں اب تمام بیوروکریٹس ہیں۔ ''

صباحی نے قانون کے اخوان المسلمون کے خلاف استعمال کیے جانے کے بجائے انقلابی یوتھ کے خلاف استعمال کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ مصر میں صدارتی انتخاب اپریل میں متوقع ہیں۔