نوبل انعام یافتہ خاتون مصر میں زیر حراست رہنے کے بعد ڈیپورٹ

امریکی امن کارکن مصر کے راستے غزہ جانا چاہتی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصری حکام نے امن کیلیے کام کرنے والی نوبل انعام یافتہ امریکی خاتون کو حراست میں رکھنے کے بعد ڈیپورٹ کر دیا ہے۔ وہ مصر کے راستے غزہ جا کر انسانی حقوق کی صورتحال کا مشاہدہ کرنا چاہتی تھیں۔ کہ انہیں ائیر پورٹ پر ہی روک کر بند کر دیا گیا اور کچھ دیر بعد ڈیپورٹ کر دیا۔

نوبل یافتہ خاتون کیلیے انسانی حقوق کیلیے سرگرم ایک گروپ منتظر تھا جس کے ساتھ انہوں نے آگے کا سفر کرنا تھا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصر میں انسانی حقوق کے معاملات کا جائزہ لینا ان کے اہداف میں شامل نہ تھا۔

ائیر پورٹ حکام نے جمعرات کو اس بارے میں بتایا ہے کہ ایک امریکی جنگ مخالف میڈا بنجمن بھی اور ان کے وفد کو پولیس نے روکا زدوکوب کر کے ان کے بازو پر سخت ضربیں لگائیں۔

امریکی کارکن کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قاہرہ ائیرپورٹ پہنچیں جن میں این پیٹرسن بھی شامل تھیں۔'' وہاں سے ہمیں حراستی مرکز لے جایا گیا اور تفتیش شروع کر دی گئی۔ تفتیش کا سلسلہ آٹھ گھنٹے تک جاری رہا، بعد ازاں کہا گیا آپ شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ''

بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار نرم خو تھے لیکن انہوں ان خواتین کو قاہرہ شہر میں نہ جانے دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ البتہ ائیر پورٹ کے حکام کے مطابق انہیں مصر میں داخلے کے حوالے سے بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے امریکی میڈا بنجمن نوبل پرائز یافتہ ہیں۔ وہ فلسطینیوں کے موقف کی ایک بلند آہنگ حامی سمجھی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے انہیں 2010 میں اسرائیل سے نکالا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں