.

529 کو سزائے موت کے بعد 682 اخوانیوں کا عدالتی ٹرائل

ملزمان میں مصری اخوان المسلمون کے مرشد عام بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری عدالت نے منگل کے روز اخوان السلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت 682 اخوانی کارکنوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کی ہے۔ ان 682 رہنماوں اور کارکنوں پر قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمہ بنایا گیا ہے۔

یہ ملزمان بھی بنیادی طور اخوانی سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کے اسی گروپ کا حصہ ہیں جس کی مجموعی تعداد 1211 ہے۔ البتہ اس گروپ میں سے 529 کارکنوں کو دو دن قبل پیر کے روز سزائے موت سنا دی گئی تھی۔ اس صورتحال میں اخوان کے مرشد عام اور ان کے سینئیر ساتھیوں کے خلاف مقدمے کی یہ سماعت ایک اور بڑا دھچکا ہے۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے باعث 529 افراد کو سزائے موت سنانے کے فیصلے کی سخت مذمت کی جارہی ہے۔ انسانی اداروں نے پیر کے روز کے عدالتی فیصلے کو مصر کی جدید تاریخ میں انوکھا فیصلہ قرار دیا ہے۔ اسی ماہ مارچ کے دوران 36 زیر حراست اخوانی کارکنوں کی ہلاکت پر ایک پولیس آفیسر کو دس سال قید کی سزا سنائِی گئی تھی۔

واضح رہے اخوان کے مرشد عام محمد بدیع کا بیٹا بھی 14 اگست 2013 کو دھرنا مظاہرین کیخلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون میں مارا گیا تھا اور اگلے ہی روز انہیں بھی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔ محمد بدیع پر قتل اور قتل پر اکسانے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

مصر جہاں پہلے منتخب صدر مرسی کی جولائی 201 میں برترفی کے بعد ان دنوں نئے صدارتی انتخاب کی تیاری ہے۔ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی متوقع صدارتی امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔