.

قطر، یو اے ای کی اٹھویں 'امارت' ہے: ڈپٹی چیف دبئی پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کے ڈپٹی چیف پولیس اور سیکیورٹی ضاحی خلفان نے خلیجی ریاست قطر پر کڑِی تنقید کرتے ہوئے اسے ابوظہبی میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو اے ای کے اہم کاروباری اور سیاحتی مرکز دبئی کے سینئر افسر کے بہ قول "قطر، ماضی میں بھی ابوظہبی کا حصہ رہا ہے لیکن استعمار نے سے ہم سے جدا کر دیا۔"

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹوئٹر' پر اپنے آفیشنل اکاونٹ کے ذریعے مسٹر خلفان نے قطر کے بارے میں 'گم گشتہ حقائق' بیان کئے ہیں۔' انہوں نے متعدد ٹویٹس میں یہ بات زور دیکر کہی کہ 'قطر، ماضی میں بھی ابوظہبی کا حصہ ہوا کرتا تھا۔' قطر کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے ضاحی خلفان نے کہا کہ "آپ متحدہ عرب امارات کی آٹھویں امارت بننے جا رہے ہیں۔

قطری پاسپورٹس

قطر سے متعلق اپنی ٹویٹس میں ضاحی خلفان کا کہنا تھا کہ" امارات کی طرف سے اہالیاں قطر کے پاسپورٹس کو تبدیل کرنے سے ہی چیزیں اپنے مقام پر واپس لوٹ آئیں گی۔ یہ امر قطری شہریوں کا حق ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اہالیاں قطر کے 80 فیصد باسی اماراتی خاندان ہیں۔ "مجھے قطر سے محبت کا سبب معلوم نہیں، شاید ہم 'طبیانیین' ہیں، ان کا اشارہ یو اے ای کے صدر مقام ابوظہبی کی طرف تھا۔

"اخوان المسلمون فطری طور پر اپنے اس خوف کی وجہ سے مجھ پر حملہ کرتے ہیں کہ اگر قطر، ابوظہبی میں ضم ہو گیا تو اخوان المسلمون آوٹ ہو جائیں گے۔" انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور بحرین نے قطر سے اپنے سفیر اس لئے واپس بلائے کہ دوحہ اپنے وعدوں کا پاس نہیں کر رہا تھا۔

قطر کے بارے میں ریاض، ابوظہبی اور منامہ کے مخالفانہ رویے کا خلاصہ یہی ہے کہ دوحہ، خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز نہیں آتا۔ اس [قطر] کی سرزمین ایسے لوگوں کی محفوظ جنت ہے کہ جو سعودی عرب، بحرین اور یو اے ای کی حکومتوں پر حملہ آور ہیں۔ نیز قطر، خلیجی ملکوں کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کی پابندی نہیں کر رہا۔