.

روس کثیر قطبی دنیا کے قیام کے لیے کوشاں ہے:بشارالاسد

ولادی میر پوتین کے نام پیغام میں روس کی جانب سے شام کی مسلسل حمایت کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ''روس ایک مرتبہ پھر کثیر قطبی دنیا کا نیا نقشہ کھینچنے کے لیے کوشاں ہے''۔

انھوں نے یہ بات روسی صدر ولادی میر پوتین کے نام ایک پیغام میں کہی ہے۔انھوں نے یہ پیغام دمشق میں روس کے اعلیٰ سطح کے ایک وفد سے ملاقات میں دیا ہے۔بشارالاسد حال ہی میں یوکرین کے علاقے کریمیا کو ضمن کرنے پر روس کی حمایت کرچکے ہیں جبکہ عالمی برادری نے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔

شامی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ''روس عالمی انصاف کے لیے کوشاں ہے اور وہ یہ سب کچھ ان ریاستوں اور عوام کے مفاد کے لیے کررہا ہے جو اپنی خودمختاری اور آزادانہ فیصلہ سازی میں یقین رکھتے ہیں''۔

انھوں نے شام کے لیے روس کی جانب سے مسلسل حمایت کو سراہا اور دونوں دوست ممالک کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر بشارالاسد روسی تنظیم ایمپریل آرتھوڈکس فلسطین سوسائٹی کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔

اس وفد کی قیادت سابق روسی وزیراعظم سرگئی اسٹیپاشین کررہے تھے۔انھوں نے بشارالاسد کو روسی صدر ولادی میر پوتین کا پیغام پہنچایا۔سانا کے مطابق اس پیغام میں روس کی جانب سے شامی عوام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق''یہ جنگ بعض مغربی اورعلاقائی ممالک کی جانب سے مسلط کی گئی ہے''۔

واضح رہے کہ روس شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران صدر بشارالاسد کی حکومت کی مسلسل اسلحی ،سفارتی ،سیاسی اور مالی امداد کرتا چلا آرہا ہے جبکہ شامی حکومت سعودی عرب ،قطر اور ترکی پر ملک میں گڑبڑ پھیلانے اور باغی گروپوں کی حمایت کے الزامات عاید کررہی ہے۔

شامی حکومت اپنی فوج کے خلاف محاذآراء باغی اور مزاحمت کار گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ان میں سے بیشتر پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں یا پھر اندرون ملک دربدر ہیں۔