.

مشرقی القدس میں آثار قدیمہ کے متنازعہ منصوبے کی منظوری

اسرائیل فلسطینیوں کے اعتراضات کے باوجود تاریخی جگہوں کو ہتھیانے پرعمل پیرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی القدس میں فلسطینیوں کے اعتراضات کے باوجود آرکیالوجی (آثار قدیمہ) کے متنازعہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیلی وزارت داخلہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بیت المقدس کے قدیمی حصے کی فصیل سے متصل اس عمارت کے بارے میں فلسطینیوں اور علاقے کے مکینوں کے اعتراضات سنے ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے فلسطینیوں کی آبادی والے علاقے سلوان میں اس منصوبے کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

گذشتہ ماہ فلسطینی خبررساں ایجنسی معان نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل کے محکمہ نوادرات نے سلوان میں متعدد تاریخی جگہوں پر کھدائی کا کام کیا ہے اور انھیں تباہ کردیا ہے۔ان میں عباسی دور کا ایک مقبرہ اور ایک ہزار سال قبل مسیح کی تاریخی عمارت کے آثار بھی شامل تھے۔

اسرائیل اس تاریخی جگہ پر کھدائی کرکے سات منزلہ عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے جو یہود کے لیے ایک ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال ہوگی۔اس جگہ کھدائی کے لیے یہودیوں کی آئی آر ڈیوڈ فاؤنڈیشن المعروف ایلاد رقوم مہیا کررہی ہے۔

اسرائیل کے اس منصوبے کے تحت علاقے میں فلسطینیوں کی سرزمین پر ایک پارک بھی تعمیر کیا جائے گا۔اس میں یہود کا تاریخی عجائب گھر اور یہود کا قومی پارک شامل ہو گا۔فلسطینی ایک عرصے سے اس منصوبے کی مزاحمت کرتے چلے آرہے ہیں لیکن اسرائیل نے ان کے احتجاج اور اعتراضات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا اور نہ وہ اس سلسلے میں کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں لایا ہے۔

اس منصوبے کی منظوری سے چار روز قبل اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے سات سو سے زیادہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے تھے اور اس طرح فلسطینیوں کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو پوری قوت کے ساتھ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس کو بچانے کے لیے کوشاں تھے۔

اسرائیل کی یہودآبادکاری مخالف تنظیم کے مطابق وزارت ہاؤسنگ نے گذشتہ منگل کو ان ٹینڈروں کے اجراء کی تصدیق کی تھی اور کہا تھاکہ اس کے تحت مشرقی بیت المقدس میں واقع یہودی بستی گیلو میں سات سو آٹھ نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا لیکن عالمی برداری انھیں فلسطینی علاقے ہی تسلیم کرتی ہے مگر عالمی برادری کے اعتراضات کے باوجود صہیونی ریاست فلسطینیوں کی سرزمین کو ہتھیانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت اس نے نئی نئی تعمیرات اور یہودی آبادکاروں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اسرائیل کی غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیتی ہے۔