اسرائیل یہودی بستیاں منجمد کرے، پھر مذاکرات ہوں گے: محمود عباس

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری روکے بغیر مذاکرات ناممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی صدر محمود عباس نے مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر براک اوباما پر واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو منجمد نہیں کردیتا،اس وقت تک اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں۔

امریکی صدر نے اپنے دورے کے دوسرے روز جمعرات کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔ان کے درمیان یہ ملاقات کوئی اڑھائی گھنٹے جاری رہی اور اس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کی بحالی اور یہودی بستیوں کی تعمیر کےمعاملے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

فلسطینی صدر نے کہا کہ ''اسرائیلی حکومت یہودی بستیوں کو منجمد کردے تاکہ ہمارے باہمی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے''۔صدراوباما کا کہنا تھا کہ ''ہم یہودی آبادکاری کی سرگرمی کو تعمیری اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب خیال نہیں کرتے۔یہی امریکا کی پالیسی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر ہم براہ راست مذاکرات شروع کرانے میں کامیاب ہوجائیں تو مجھے یقین ہے کہ ڈیل کی کوئی شکل صورت نکل سکتی ہے۔دنیا کے تمام لوگوں اور یہاں فلسطینیوں کو جان لینا چاہیے کہ امریکا تنازعے کا حل چاہتا ہے''۔

امریکی صدر نے اسرائیل میں صہیونیوں کی یادگاروں کے دورے اور وہاں پھول چڑھانے کے بعد فلسطینیوں کو یہ باور کرانا ضروری خیال کیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ان کی انتظامیہ کی ترجیح ہے۔تاہم وہ اپنے ساتھ ایسا کوئی منصوبہ نہیں لائے کہ جس کی بنیاد پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکے۔ البتہ وہ زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا کررہے ہیں اور انھوں نے اسرائیل سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں کو منجمد کردے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں