.

"ایران، شام میں بشار الاسد کے اقتدار کا تسلسل نہیں چاہتا"

طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے عرب و افریقہ امور امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک صدر بشار الاسد کو تاحیات شام میں اقتدار پر فائز رکھنے کا خواہاں نہیں لیکن موجودہ حالات دمشق میں حکومتی تبدیلی کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ بشار الاسد کی جگہ کسی انتہا پسند گروپ کو مسلط کرنے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایک بیان میں ایرانی نائب وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم بشار الاسد کو تاحیات اقتدار پر فائز رکھنے کے حامی نہیں ہیں لیکن ہم طاقت اور دہشت گردی کے ذریعے بشار الاسد کی حکومت ختم کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "شام کی خانہ جنگی کے باعث ایران کا خطے کے بارے میں موقف تبدیل ہوا ہے۔ میرے خیال میں رواں سال جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہیے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا کوئی درمیانی اور متوازن حل نکالا جانا چاہیے۔

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق عبداللھیان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان جوہری تنازع پر بیس جولائی کی ڈیڈ لائن کے اندر اندر کوئی سمجھوتہ طے پا جائے گا۔

قبل ازیں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے اپنے ہم منصب انور قرقاش کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ کویت میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہ نماؤں کے درمیان شام، بحرین، یمن اور مصر کے مسائل زیر بحث آئے۔