.

عرب لیگ کا اسرائیل پرامن مذاکرات میں تعطل کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے اسرائیل کو امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات میں تعطل کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا بدھ کو قاہرہ میں ہنگامی اجلاس ہوا ہے جس میں فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی شرکت کی ہے۔اس اجلاس میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی میں امن مذاکرات میں تعطل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل پر مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وقت گزاری اسرائیل کا تزویراتی مقصد رہا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے انکار اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے 708 نئے مکانوں کے ٹینڈروں کے اجراء کے بعد سے فریقین کے درمیان مذاکرات معطل ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی منگل کو اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مشرقی القدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دے کر امن مذاکرات کو پٹڑی سے اتار دیا ہے لیکن انھوں نے دونوں فریقوں پر غیر لچکدار رویہ اپنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ نان سکیورٹی ایشوز سے متعلق اعلیٰ سطح کے روابط پر پابندی عاید کردی ہے۔تاہم اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں کا کہناہے کہ اعلیٰ مذاکرات کار زیپی لیونی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

اسرائیلی حکومت کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینیوں کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے وضع کردہ فریم ورک کی خلاف ورزی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

تاہم فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی کا کہنا ہے کہ ان تمام تر اقدامات کے باوجود ہم نے فلسطینی اور عرب کے طور پر امن عمل کو جاری رکھنے کا عزم کررکھا ہے اور جان کیری کی بحران کے حل کے لیے کوششوں کے حامی ہیں۔

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ گذشتہ سال جولائی میں مذاکرات کے آغاز کے وقت طویل عرصے سے جیلوں میں بند ایک سو چار قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا تھا لیکن ان میں سے اٹھہتر قیدیوں کو رہا کیا ہے اور باقی چھبیس قیدیوں کو طے شدہ تاریخ 29 مارچ کو رہا نہیں کیا تھا جس کے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا اور اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور کنونشنوں میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا۔

اسرائیل نے پہلے یہ کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی مذاکرات کو 29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھتی ہے تو پھر پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اور آخری مرحلے میں چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جاسکتا ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کو بلیک میل قراردے کر مسترد کردیا تھا۔